جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں بچوں کی امریکہ سمگلنگ کی جانے لگی ،ایک بچہ کتنے میں بیچا جاتا ہے؟تہلکہ خیز انکشاف

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی پولیس نے بھارت سے بیرون ملک بچے اسمگل کر نے والے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا ہے جس نے 300 بچے امریکا اسمگل کئے اور انسانی سمگلرز کو ہر بچہ 45لاکھ کے عوض فروخت کیا۔جمعرات کے روز پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ راجو بھائی گملے والا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

گجرات کے رہائشی نے اسمگلنگ کا یہ کام 2007 میں شروع کیا تھا،وہ امریکا میں مقیم اس دھندے میں ملوث لوگوں کے ہاتھ بچے 45 لاکھ میں بیچتا تھا۔ان بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان تھیں اور ان کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔پولیس کے مطابق اس غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے بچوں کے والدین نے انہیں بیچا تھا۔پولیس نے مزید بتایا کہ اس گروہ کا پہلی دفعہ مارچ میں پتہ چلا تھا جب ایک بھارتی اداکارہ کی ایک دوست کی جانب سے انہیں کال موصول ہوئی۔اداکارہ کی دوست نے انہیں بتایا کہ وہ ایک سلون میں موجود ہیں جہاں 2بچیاں بھی ہیں جن کو میک اپ کر کے ان کی شناخت چھپائی جارہی ہے،اسی شک کی بنا پر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد اس گروہ کی گرفتاری عمل میں آئی۔پولیس کا کہنا تھا کہ گروہ کا سربراہ 2007 میں پہلے ہی گرفتار ہو چکا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں کو فروخت کرنے کے اس گھناؤنے فعل کے منظر عام پر آنے سے عوامی حلقوں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ذمہ داران کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ متعلقہ ادارے ذمہ داران کیخلاف جلد سے جلد کاروائی عمل میں لائیں اور پورے گروہ کو گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے حکمران جماعت بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں اتنے عرصے سے یہ گھناؤنا جرم جاری ہے اور حکمران جماعت کے کرپٹ افسران رشوت کے عوض یہ کام اپنی سربراہی میں انجام دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلد از جلد کارروائی کرے بصورت دیگر ہم ملک گیر احتجاج کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…