جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی چل بسے‎

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی  زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والے93 سالہ اٹل بہاری واجپائی  آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں چل بسے ہیں ۔واضح رہے  رواں ماہ جون میں انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

جہاں ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی نالی میں انفیکشن بتایا ، اس کے ساتھ ہی ان کے گردوں سے متعلق بھی بیماری کی تشخیص کی گئی تھی۔گزشتہ ہفتے، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور یونین کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ بھی ان کی صحت کا حال پوچھنے ہسپتال پہنچے تھے۔واضح رہے اٹل بہاری واجپائی نے 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942ء کی ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک میں پرجوش حصہ لیا،تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا تو یہ بھی گرفتار ہو گئے اور انہیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996ء سے یکم جون 1996ء یعنی 15 دن کے وزیر اعظم رہے ٗدوسری مرتبہ 19 مارچ 1998ء سے 22 مئی 2004ء تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں ٗ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے ٗاپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…