جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قانونی تلوار سے فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو ختم کرنے کی امریکی سازش

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد بند کیے جانے کے بعد اب نام نہاد قوانین کے ذریعے فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اور آباد کاری کے حق کو ختم کرنے کی نئی سازش شروع کی گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی کانگریس میں ایک نیا بل پیش کیا گیا جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد کم سے کم ظاہر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ناقدین نے اس بل کو فلسطینیوں کے حق واپسی کوناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی ایک نئی سازش سے تعبیر کیا ہے۔امریکی کانگریس میں یہ نیا بل ری پبلیکن پارٹی کے رکن ڈوگ لامبرون نے پیش کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے جنگ کے بعد چھ لاکھ فلسطینیوں کی واپس ان کے علاقوں میں آباد کاری اور مہاجرین کی مالی کفالت کے لیے اونروا ایجنسی قائم کی۔ ستر سال گذرنے کے بعد دنیا بھر میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 53 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی پناہ گزین قرار دی جا رہی ہے۔ ان پر بھاری بجٹ صرف ہو رہا ہے۔ انہی کی وجہ سے پناہ گزینوں کا نہ ختم ہونے والا مسئلہ پیدا ہوا۔ لہٰذا دوسری اور تیسری نسل میں شامل فلسطینیوں کو پناہ گزین شمار نہ کیا جائے۔اْنہوں نے تسلیم کیا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لے قائم کردہ ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا کو سیاسی اور اقتصادی طورپر اس لیے کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ وہ کم سے کم فلسطینی پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے۔ ان کے نئے مسودہ قانون کا مقصد یہ ہے کہ پناہ گزینوں کا ’اسٹیٹس‘ صرف ان فلسطینیوں کو دیا جائے جو 1948 کی جنگ میں فلسطین سے نکالے گئے۔ ان کی اولاد اور دوری اور تیسری نسل کو ان میں شامل نہ کیا جائے۔ اسی طرح ان فلسطینیوں کو بھی پناہ گزین قرار نہ دیا جائے جو دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔ ایسی صورت میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر کی رقم ہی کافی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…