جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

قانونی تلوار سے فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو ختم کرنے کی امریکی سازش

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد بند کیے جانے کے بعد اب نام نہاد قوانین کے ذریعے فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اور آباد کاری کے حق کو ختم کرنے کی نئی سازش شروع کی گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی کانگریس میں ایک نیا بل پیش کیا گیا جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد کم سے کم ظاہر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ناقدین نے اس بل کو فلسطینیوں کے حق واپسی کوناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی ایک نئی سازش سے تعبیر کیا ہے۔امریکی کانگریس میں یہ نیا بل ری پبلیکن پارٹی کے رکن ڈوگ لامبرون نے پیش کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے جنگ کے بعد چھ لاکھ فلسطینیوں کی واپس ان کے علاقوں میں آباد کاری اور مہاجرین کی مالی کفالت کے لیے اونروا ایجنسی قائم کی۔ ستر سال گذرنے کے بعد دنیا بھر میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 53 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی پناہ گزین قرار دی جا رہی ہے۔ ان پر بھاری بجٹ صرف ہو رہا ہے۔ انہی کی وجہ سے پناہ گزینوں کا نہ ختم ہونے والا مسئلہ پیدا ہوا۔ لہٰذا دوسری اور تیسری نسل میں شامل فلسطینیوں کو پناہ گزین شمار نہ کیا جائے۔اْنہوں نے تسلیم کیا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لے قائم کردہ ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا کو سیاسی اور اقتصادی طورپر اس لیے کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ وہ کم سے کم فلسطینی پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے۔ ان کے نئے مسودہ قانون کا مقصد یہ ہے کہ پناہ گزینوں کا ’اسٹیٹس‘ صرف ان فلسطینیوں کو دیا جائے جو 1948 کی جنگ میں فلسطین سے نکالے گئے۔ ان کی اولاد اور دوری اور تیسری نسل کو ان میں شامل نہ کیا جائے۔ اسی طرح ان فلسطینیوں کو بھی پناہ گزین قرار نہ دیا جائے جو دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔ ایسی صورت میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر کی رقم ہی کافی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…