منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

7پاکستانیوں کو دبئی میں گرفتار کر لیا گیا،ایسا سنگین الزام عائد کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 5  جولائی  2018 |

دبئی(نیوز ڈیسک) دبئی میں 7 پاکستانی شہریوں کو چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے 7 پاکستانی شہریوں پر ایک بکتر بند گاڑی سے 47 کروڑ روپے چْرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ دبئی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 7 پاکستانی شہریوں کو 47 کروڑ روپے چوری کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بکتر بند گاڑی رقم منتقل کرنے والی ایک کمپنی کی تھی۔ کمپنی میں کام کرنے والے تین پاکستانی ڈرائیوروں کو بھی مجرموں سے تعلق ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے اس چوری سے متعلق تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ ڈرائیورز کی گرفتاری کے بعد 4 مزید ملزمان کو چوری میں لوجیکل سپورٹ فراہم کرنے پر حراست میں لیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے سے متعلق مزید تفتیش بھی کر رہے ہیں۔سکیورٹی حکام نے بتایا کہ زیر حراست تمام افراد کو اس جْرم کے مرتکب ہونے پر تین سال جیل کاٹنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ کمپنی میں کام کرنے والے دو نیپالی گارڈ نے الغریر سینٹر پر اے ٹی ایم مشین میں پیسے ڈالنے کے لیے جانے والے پاکستانی ڈرائیوروں کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے پر کمپنی کے مینجر کو آگاہ کیا۔ رابطہ منقطع ہونے کی اطلاع ملتے ہی کمپنی کے ملازمین نے اے ٹی ایم کا رْخ کیا اور وہاں جانے پر دیکھا کہ ٹرک کا انجن چل رہا ہے جبکہ ٹرک ایک گلی میں کھڑا ہوا ہے اور اس میں ڈرائیور بھی موجود نہیں ہے۔جس پر کمپنی ملازمین نے 37 سالہ ڈرائیور اور گاڑی میں موجود رقم کے غائب ہونے پر فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس لیفٹننٹ نے بتایا کہ کرائم سین کی تحقیقات کرنے والوں اور اْنگلیوں کے نشان پہنچاننے والوں کی ایک ماہر ٹیم نے بکتر بند گاڑی کا جائزہ لیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ گاڑی کے ڈرائیور نے سی سی ٹی وی کیمروں کا رابطہ منقطع کیا جس کے تحت اسے مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…