جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

7پاکستانیوں کو دبئی میں گرفتار کر لیا گیا،ایسا سنگین الزام عائد کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 5  جولائی  2018 |

دبئی(نیوز ڈیسک) دبئی میں 7 پاکستانی شہریوں کو چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے 7 پاکستانی شہریوں پر ایک بکتر بند گاڑی سے 47 کروڑ روپے چْرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ دبئی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 7 پاکستانی شہریوں کو 47 کروڑ روپے چوری کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بکتر بند گاڑی رقم منتقل کرنے والی ایک کمپنی کی تھی۔ کمپنی میں کام کرنے والے تین پاکستانی ڈرائیوروں کو بھی مجرموں سے تعلق ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے اس چوری سے متعلق تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ ڈرائیورز کی گرفتاری کے بعد 4 مزید ملزمان کو چوری میں لوجیکل سپورٹ فراہم کرنے پر حراست میں لیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے سے متعلق مزید تفتیش بھی کر رہے ہیں۔سکیورٹی حکام نے بتایا کہ زیر حراست تمام افراد کو اس جْرم کے مرتکب ہونے پر تین سال جیل کاٹنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ کمپنی میں کام کرنے والے دو نیپالی گارڈ نے الغریر سینٹر پر اے ٹی ایم مشین میں پیسے ڈالنے کے لیے جانے والے پاکستانی ڈرائیوروں کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے پر کمپنی کے مینجر کو آگاہ کیا۔ رابطہ منقطع ہونے کی اطلاع ملتے ہی کمپنی کے ملازمین نے اے ٹی ایم کا رْخ کیا اور وہاں جانے پر دیکھا کہ ٹرک کا انجن چل رہا ہے جبکہ ٹرک ایک گلی میں کھڑا ہوا ہے اور اس میں ڈرائیور بھی موجود نہیں ہے۔جس پر کمپنی ملازمین نے 37 سالہ ڈرائیور اور گاڑی میں موجود رقم کے غائب ہونے پر فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس لیفٹننٹ نے بتایا کہ کرائم سین کی تحقیقات کرنے والوں اور اْنگلیوں کے نشان پہنچاننے والوں کی ایک ماہر ٹیم نے بکتر بند گاڑی کا جائزہ لیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ گاڑی کے ڈرائیور نے سی سی ٹی وی کیمروں کا رابطہ منقطع کیا جس کے تحت اسے مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…