منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پراسرارطورپر ہلاک ہونیوالے گیارہ افراد کو قتل نہیں کیاگیا بلکہ انہوں نے اجتماعی خودکشی کی،ان 11افراد کو کس بات کایقین تھا ؟بھارتی پولیس کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 2  جولائی  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے گھر میں خودکشی کرنے والے 11 افراد کی موت معمہ بن گئی، بھارتی ٹی وی کے مطابق پولیس نے بتایاکہ مرنیوالوں کا عقیدہ تھا کہ انہیں پھانسی کے باوجود کچھ نہیں ہو گا۔پولیس کا کہنا تھا کہ خودکشی کرنے والے خاندان کے گھر سے ایک تحریر ملی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مرنے والوں کو یقین تھا کہ جب وہ خود کو پھانسی لگائیں گے تو انہیں کچھ نہیں ہو گا۔تحریر میں خودکشی کے تمام مراحل بھی درج کئے گئے تھے،

دہلی کے پراری علاقے سے گزشتہ روز پولیس کو ایک گھر سے آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ بندھی لاشیں ملی تھیں ،مرنے والے 11 میں سے 10 افراد نے پھانسی لگائی تھی۔دہلی پولیس کے مطابق ایک دکان میں ایک ہی خاندان کے 11افراد کی لاشیں ملی تھیں جن میں سے 10 افراد کی لاشیں چھت سے لٹکی ہوئی تھیں،صرف ایک لاش زمین پر پڑی تھی جو 77 سالہ عورت کی تھی۔ان 11افراد میں 2بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زیادہ تر لاشوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھی، منہ پر کپڑا بندھا تھا اور ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق دکان سے ملنے والے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس سے لگتا ہے کہ یہ کوئی جادوئی پریکٹس تھی، تاہم پولیس نے قتل کے امکان کو رد نہیں کیاتھا۔دہلی کے براری علاقے میں واقع اس دکان میں صرف ایک پالتو کتا ہی زندہ پایا گیا۔اطلاعات کے مطابق خودکشی کرنے والا بھاٹیا خاندان جو راجستھان سے تعلق رکھتا تھا اور گذشتہ 20 سال سے دہلی میں مقیم تھا، اس تین منزلہ عمارت کے گراونڈ فلور پر ان کی دو دکانیں تھیں۔گزشتہ روز ہمسائے گرچرن سنگھ نے صبح سویرے پڑوسیوں کی لاشیں اس وقت دیکھیں جب وہ دودھ خریدنے جا رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں جب دکان میں داخل ہوا تو تمام دروازے کھلے تھے اور دس لاشیں چھت سے لٹکی ہوئی تھیں اور ایک لاش فرش پر پڑی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…