منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے بھارتی سرحد کے قریب بڑی تعداد میں فوج منتقل کردی،بھاری اسلحہ پہنچادیاگیا،بھارت میں ہلچل

datetime 30  جون‬‮  2018 |

بیجنگ(نیوز ڈیسک) چین نے بھارتی سرحد کے قریب تبت میں فوجی مشقیں شروع کردی ہیں۔بھارتی سرحد پر ڈوکلام تنازع کے بعد چینی افواج کی یہ پہلی مشقیں ہیں جن کے ذریعے چین کی مسلح افواج علاقے میں اپنی نقل وحرکت اسلحہ پہنچانے کی صلاحیت اور فوجی سویلین رابطوں کا جائزہ لینا چاہتی ہیں ان مشقوں میں چینی مسلح افواج کے ساتھ چینی حکومت، مقامی کمپنیاں اور شہری بھی شامل ہیں۔

چینی ذرائع ابلاغ کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تبت میں موجود چین کی مسلح افواج نے فوجی مشقوں کا آغاز ہمالیہ کے اس خطے میں گزشتہ روز کیا۔یہ علاقہ سطح زمین سے کافی بلندی پر واقع ہے جہاں سخت موسم کے باعث فوجی دستوں کا قیام اور بھاری ہتھیار لے جانا بہت مشکل ہے۔ اس لیے وہاں فوجی اسلحہ پہنچانے اس کی سپلائی برقرار رکھنے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے اور تحفظ کے چیلینجز سے نمٹنے کے لیے چینی مسلح افواج نے شہریوں کا تعاون حاصل کیا ہے۔ جو کہ کئی راستوں سے فوج کو تعاون فراہم کرسکتے ہیں۔یہ بات مسلح افواج کے نقل وحمل کے شعبے کے سربراہ ژینگ وین لانگ نے چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شِنہوا کوبتائی ہے۔کئی مقامی کمپنیوں جن میں ایک پٹرولیم کمپنی بھی شامل ہے فوج کو تیل فراہم کیا ہے کیونکہ یہاں تیل کی زبردست کمی تھی۔ لحاسہ کی شہری حکومت نے مشقوں میں حصہ لینے والے فوجیوں میں خوراک تقسیم کی ہے۔تبت کے اس بلند مقام پر مسلح افواج کو نقل وحمل اور اسلحہ کی فراہمی کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ 1962چین بھارت جنگ میں بھی چی کو ایسے ہی مشکلات پیش آئی تھی ۔تاہم تبت کے مقامی شہریوں نے چین کی مسلح افواج کو ہنگامی طورپر مدد فراہم کی۔گلوبل ٹائمز کے ایک عسکری ماہر سانگ ژانگ پنگ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اپنی فوجی طاقت برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔تاہم چینی مسلح افواج اور شہریوں کامل جل کرکام کرنا چین کی جنگی حکمت عملی کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔مقامی آبادی چینی مسلح افواج اور اس کی حکمت عملی کی زبردست حامی ہے۔اور یہ پڑوسی بھارت کے لیے پریشانی کا باعث ہوسکتی ہے۔ جس کی سرحد چین ساتھ3488کلو میٹر طویل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…