منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی سپریم کورٹ نے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ سنادیا،اب 7ممالک کے افراد امریکہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے، تفصیلات جاری

datetime 26  جون‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی)امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی جسے سپریم کورٹ کے ماتحت اپیلیٹ کورٹ نے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس نے ابتدائی طور پر سفری پابندی کو جزوی طور پر بحال کیا تھا ٗاب امریکی سپریم کورٹ نے

صدر ٹرمپ کے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے ٗ9 ججر پر مشتمل بینچ کے 5 ججز پابندی برقرار رکھنے کے حق میں جبکہ 4 نے اس کی مخالفت کی۔عدالت نے ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف فیصلہ سنادیاامریکی چیف جسٹس جان رابرٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امریکی امیگریشن قوانین کے تحت صدر کے پاس سفری پابندیوں کا صوابدیدی اختیار موجود ہے لہٰذا ان کا یہ اقدام غیر آئینی نہیں۔عدالت نے فیصلے میں مذہبی بنیادوں پر سفری پابندیوں کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ میں اس مقدمے پر 16 ماہ تک دلائل کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سفری پابندی کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور ویزا رکھنے والے افراد امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔اس پابندی کا اطلاق شمالی کوریا اور وینزویلا کے شہریوں پر بھی ہوگا تاہم اس پابندی کے جن حصوں کو چیلنج کیا گیا تھا اس میں ان دونوں ممالک پر پابندی کا معاملہ شامل نہیں تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 28 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو ا?رڈر کے ذریعے ایران، عراق، شام، لیبیا،

صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کے حوالے سے سفری پابندیاں عائد کردی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ان متنازع احکامات کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے، جس کے بعد امریکا کی وفاقی عدالت نے 2 ریاستوں کی درخواست پر صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز کو معطل کردیا تھا، جن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…