منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سیاستدان حضرات ہوشیار باش، ووٹ مانگنے پر استقبال اب پھولوں کے ہار سے نہیں بلکہ جوتوں کے ہار سے کیا جائیگا،عوام کا فیصلہ

datetime 26  جون‬‮  2018 |

بھوپال(آئی این پی)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں سیاستدانوں کا استقبال جوتوں کے ہار سے کیا جائے گا، نیتاؤں کی سرد مہری اور وعدے وفا نہ کرنے پر بھوپال کی عوام نے یہ انوکھا فیصلہ کیا، سیاستدان صرف ووٹ کے لئے آتے ہیں بعد میں عوام کی کوئی فکر نہیں کرتے،ووٹ مانگنے پر ان کا استقبال جوتوں کے ہار سے کیا جائیگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عموما مقامی رہنماوں کے استقبال کیلئے علاقے کے لوگوں کو پھول نچھاور کرتے ہوئے

دیکھا گیا لیکن چپلوں کے ہار سے نیتاؤں کا استقبال کرنا شاید ہی سنا ہوگا۔مدھیہ پردیش کے بھوپال میں کولار علاقے کے اوم نگر میں نیتاوں کے استقبال کیلئے لوگوں نے جوتوں کا ہار تیار کیا۔ دراصل مانسون سے قبل شہریوں کی سہولتوں کیلئے سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں نے بڑے بڑے وعدے کئے تھے مگر ان نیتاوں کی سردمہری اور وعدہ وفا نہ کرنے پر علاقے کے لوگوں نے پرانے جوتوں سے ہار تیار کرکے گھروں کی چھت پر لٹکا دیا گیا۔ مقامی تاجر راجیش مشرا نے بتایا کہ ابھی صرف ہلکی پھلکی بارش سے علاقے کا حال برا ہوگیا ہے۔ انہوں نے بھوپال میونسپل کارپوریشن اور نیتاوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما صرف الیکشن کے زمانے میں یہاں آتے ہیں اور ووٹ مانگ کر چلے جاتے ہیں اور علاقے کی ترقی کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ علاقے میں رہنے والے گنیش بگھیل نے کہا کہ سوسائٹی میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں ۔ ہم نے میونسپلٹی کے اہلکاروں اور افسران سے شکایتیں کیں ، وارڈ ممبران سے بات چیت کی مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس کے بعد علاقے کے لوگوں نے بطور احتجاج جوتوں کا ہار تیار کررکھا ہے جیسے ہی کوئی نیتا ، لیڈر یا پارٹی رہنما ووٹ مانگنے آئیں گے ان کا استقبال انہی جوتوں کے ہار سے کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…