جدہ (نیوز ڈیسک) پاکستان اور سعودی عرب نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ذرائع ابلاغ اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ تبادلہ خیال جدہ میں ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل اور سعودی عرب کے وزیر ثقافت و اطلاعات ڈاکٹر عوادبن صلاح العواد کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔ملاقات میں طرفین نے برادر ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کیلیے ذرائع ابلاغ اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔
ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل نے جدہ میں یمن میں قانونی حکومت کے حامی اتحادی ملکوں کے وزرائے اطلاعات کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان یمن میں بحران کے خاتمے اور متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا جلد آغاز چاہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان صدر عبدربومنصور ہادی کی قانونی حکومت کی غیر مشروط بحالی اور دارالحکومت صنعا سمیت زیر قبضہ علاقوں سے باغی فورسز کے انخلا کا مطالبہ کرتا ہے۔ موجودہ انسانی بحران یمن کیعوام کی مشکلات میں کمی کیلئے عالمی سطح پر مزید ٹھوس اور مربوط کوششوں کا متقاضی ہے۔ کانفرنس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،سوڈان، مصر، کویت، بحرین، اردن، جبوتی، ملائیشیا، سینیگال، یمن اور پاکستان کے وزرائے اطلاعات نے شرکت کی۔دریں اثناء الحدیدہ میں حوثیوں کی جانب سے مقرر کردہ فِفتھ ملٹری زون کا کمانڈر بریگڈیئر جنرل سعید ابو بکر الحریری باغیوں سے منحرف ہو کر یمنی سرکاری فوج میں شامل ہو گیا ہے۔ادھر عسکری اور طبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثیوں کا ایک کمانڈر عبدالکریم مروان اپنے کئی ساتھیوں سمیت الحدیدہ میں مارا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حوثی ملیشیا نے یمن کے صوبے المحویت میں ان متعدد کمانڈروں کی آخری رسوم ادا کیں جو مغربی ساحل کی پٹی پر ہلاک ہوئے۔ ان میں سرفہرست کرنل بندر یحیی معیض ہیں۔ اسی طرح حوثی رہ نما شرف محمد منصور القحوم بھی مارے جانے والوں میں شامل ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی ترجمان مایا کوسیانشیچ نے بتایا کہ ہم تنازع سے متعلق تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تنازع کے عسکری حل کا کوئی وجود نہیں۔ بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔