منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

یورپ میں عوامیت پسندانہ اجانب دشمنی کے تیز پھیلاؤ پر تشویش ہے،کونسل آف یورپ

datetime 23  جون‬‮  2018 |

پیرس(انٹرنیشنل ڈیسک)یورپ میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف اور اجانب دشمنی پر مبنی سیاسی عوامیت پسندی کا تیز تر پھیلاؤ بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ایسے رویوں کے پریشان کن پھیلاؤ کے خلاف تنبیہ یورپی کونسل کے ماہرین کے ایک کمیشن نے کی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کونسل آف یورپ کے ماہرین کے اس کمیشن نے یہ تنبیہ بھی کی کہ یورپ میں عوامی سطح پر اظہار رائے کے لیے عوامیت پسند سیاسی رہنماؤں اور ان کے حامیوں کی طرف سے نفرت آمیز زبان اور جذباتی بیانات کا استعمال بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہو گیا ہے۔کونسل آف یورپ کے ماہرین کے اس ادارے کا نام نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف یورپی کمیشن ہے، جس نے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ کئی عوامیت پسند یورپی سیاستدانوں نے تارکین وطن کی یورپ آمد کو اپنے اپنے ممالک کے سماجی ڈھانچے اور سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسا کرتے ہوئے ان پاپولسٹ سیاستدانوں نے یہ بات قطعانظر انداز کر دی کہ ان کے ایسے بیانات کے بالکل برعکس اسی حوالے سے شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والے حقائق‘ کس طرح کے امور کی نشان دہی کرتے ہیں۔اس یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کئی یورپی ممالک میں تارکین وطن اور ایسے دیگر مقابلتا کم محفوظ سماجی گروپوں کے بنیادی حقوق کی نفی کو جائز ثابت کرنے کی کاوشیں کرتے ہوئے سلامتی سے متعلق خدشات کو نعرہ بنا کر ایک ہتھکنڈے کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ بہت سے یورپی ممالک تو اپنے ہاں مہاجرین اور تارکین وطن کے بہتر سماجی انضمام کے لیے واقعی وسیع تر کوششیں کر رہے ہیں ۔جن میں رہائش، تعلیم اور روزگار جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔ تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی غیر معمولی حد تک زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ یورپ میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کی ضرورت ہے۔پیرس میں اپنے ادارے کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کونسل آف یورپ کے اس کمیشن کے سربراہ ڑاں پال لیہنرز نے کہاکہ یورپی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانیے کو زیادہ متوازن اور حقائق پر مبنی بنائیں، لیکن ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بناتے ہوئے کہ تارکین وطن کی آمد کے ایک منظم نظام کی مثبت اہمیت بھی نظر انداز نہ کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…