جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

فضائی تاریخ کا انوکھا ترین واقعہ،معروف ایئرلائن کے پائلٹ نے مسافروں کو جہاز سے نکالنے کیلئے اے سی فْل کردیا،168مسافرسوارتھے،متعدد کی حالت خراب

datetime 22  جون‬‮  2018 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) ایک بھارتی ایئرلائن نے مسافروں کو 4 گھنٹے سے زائد تک انتظار کروانے کے بعد طیارے سے اترنے کا حکم دے دیا اور جب مسافر نہیں اترے تو جہاز کا ایئر کنڈیشن فل کردیا، جس سے کئی لوگوں کی حالت خراب ہوگئی۔بھارتی ٹی وی کے مطاببق کلکتہ سے بگڈوگرا جانے والی ایئر ایشیا کی پرواز کے لیے پہلے مسافروں کو ایئر پورٹ اور پھر طیارے میں تقریباً 4 گھنٹے تک انتظار کروایا گیا اور اس کے بعد حکم ہوا کہ جہاز سے اتر جائیں۔

جب مسافروں نے جہاز سے اترنے سے انکار کیا تو طیارے کا اے سی فْل کردیا گیا، جس کے باعث طیارے میں دھند جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، جس سے کئی مسافروں کی طبیعت خراب ہوگئی۔مذکورہ پرواز میں 168 مسافر سوار تھے۔طیارے میں سوار ایک مسافر دیپانکار رائے نے بتایا کہ عملے کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور خراب تھا۔ان کا کہنا تھاکہ فلائٹ نے صبح 9 بجے روانہ ہونا تھا لیکن وہ آدھا گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی، بورڈنگ کے بعد ہمیں ڈیڑھ گھنٹے تک طیارے میں بھوکا پیاسا بٹھایا گیا، جس کے بعد پائلٹ نے تمام مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ جہاز سے نیچے اتر جائیں اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔دیپانکار رائے نے مزید بتایا کہ جب شدید بارش کی وجہ سے مسافروں نے جہاز سے اترنے سے انکار کیا تو کپتان نے اے سی کو فل کرکے چلا دیا، جس سے طیارے میں دھند جیسی صورتحال پیدا ہوگئی اور لوگوں کا دم گھنٹنے لگا، کئی خواتین نے قے کردی جبکہ بچوں نے رونا شروع کردیا۔دیپانکار رائے کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسافر جہاز کے عملے سے اے سی کو بند کرنے کی گزارش کر رہے ہیں۔دوسری طرف رابطہ کرنے پر ایئر لائن انتظامیہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فلائٹ ساڑھے 4 گھنٹے تک تکنیکی وجوہات کی بناء پر تاخیر کا شکار ہوئی، تاہم اے سی کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ معمول کی بات تھی اور مرطوب صورتحال میں اِسی طرح کیا جاتا ہے۔

ایئرلائن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسافروں کو ریفریشمنٹ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل انتظامات بھی کیے گئے۔تاہم اس حوالے سے دیپانکار رائے نے بتایا کہ انتظامیہ نے مسافروں کو جہاز سے اتارنے کے بعد کہا کہ وہ ایئرپورٹ کے فوڈ کورٹ میں چلے جائیں اور وہاں کھانا حاصل کرنے کے لیے اپنے بورڈنگ پاسز دکھائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو فوڈ کورٹ والوں نے ہمیں کھانا دینے سے انکار کردیا اور جب ہم دوبارہ فلائٹ میں سوار ہوئے تو ایئرلائن انتظامیہ نے ہمیں سینڈوچ اور ایک پانی کی بوتل فراہم کی، یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…