منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغان حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کیلئے ثالثی ،بڑی پیشکش کردی گئی

datetime 20  جون‬‮  2018 |

بانڈہ داؤدشاہ؍ کابل (این این آئی) افغان علماء کرام نے حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا نبھانے کی پیشکش کردی ہے ۔ بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں جید افغان علمائے کرام اورمذہبی سکالروں کا ایک اجلاس ہوا ، اجلاس کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علمائے کرام نے طالبان پر زور دیا کہ وہ حکومت کی طرف سے فائربندی کی پیشکش قبول کریں

اور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطرطویل عرصہ تک فائربندی کا اعلان کرکے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔صوبائی کونسل کے ایک رکن اور جید عالم مولوی عطاء اللہ فیضان نے کہا کہ امن کسی بھی علاقے کی فلاح وبہبود اور ترقی کی ضمانت دیتا ہے اور افغان عوام امن کے لئے ترس رہے ہیں جس کے لئے اب وقت آگیا ہے کہ عملی اقدامات کئے جائیں۔ اْنہوں نے کہا کہ علمائے کرام حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہیں کیونکہ تین روزہ فائربندی سے ظاہر ہوا کہ پوری قوم اب امن اور استحکام چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ طالبان نے عیدالفطر کے موقع پر ملک میں 17 سال بعد پہلی مرتبہ مکمل فائربندی کا اعلان کیا تھا جبکہ افغان حکومت نے فائربندی میں دس روز تک توسیع کردی ہے اور طویل عرصہ تک جنگ بندی اور طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لئے کوشاں ہے۔ ادھر تین روز فائربندی کے خاتمہ کے بعد طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے تیز کئے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں خونریزی کے واقعات میں خطرناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  افغان علماء کرام نے حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا نبھانے کی پیشکش کردی ہے ۔ بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں جید افغان علمائے کرام اورمذہبی سکالروں کا ایک اجلاس ہوا ، اجلاس کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علمائے کرام نے طالبان پر زور دیا کہ وہ حکومت کی طرف سے فائربندی کی پیشکش قبول کریں اور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطرطویل عرصہ تک فائربندی کا اعلان کرکے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…