پیر‬‮ ، 05 جنوری‬‮ 2026 

ٹرمپ کی سخت مہاجر پالیسی، 1800 خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے

datetime 10  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی سرحدوں پر حفاظتی کارروائیوں میں سختی کے نتیجے میں گزشتہ سترہ ماہ کے دوران میکسیکو سے امریکی سرحد عبور کرنے والے ایک ہزار آٹھ سو تارکین وطن اپنے بچوں سے بچھڑنے پر مجبور ہو گئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت سرحدی پالیسیوں کے نتیجے میں اکتوبر 2016ء سے رواں برس فروری تک قریب ایک ہزار آٹھ سو خاندانوں کو ایک دوسرے سے الگ ہونا پڑا ہے۔

تارکین وطن کے خاندان میں علیحدگی میں اضافے کی وجہ موجودہ انتظامیہ کی سخت پالیسیاں ہیں۔امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے گزشتہ ماہ ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کے خلاف سخت پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام سے زیادہ تر پناہ گزینوں کے بچے ہی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کو اپنے والدین سے الگ کر دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ اور ڈیموکریٹ قانون سازوں کی جانب سے سرحد پر مہاجرین کے اہل خانہ کو الگ کرنے کے عمل کی شدید مذمت بھی سامنے آئی ہے۔

 

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…