ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سی ڈی اے کا بڑا اقدام، اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تیاری

datetime 3  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں سیکٹر ڈی-12 کے نزدیک مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے باضابطہ طور پر ٹینڈرنگ مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سی ڈی اے کے پروکیورمنٹ اینڈ کنٹریکٹ ونگ نے ای-بڈنگ کی دعوت جاری کر دی ہے۔جاری کردہ ٹینڈر اعلامیے کے مطابق سی ڈی اے ایسی تعمیراتی کمپنیوں سے آن لائن بولیاں طلب کر رہا ہے جو پاکستان انجینئرنگ کونسل میں کیٹیگری سی-اے (C-A) کے تحت رجسٹرڈ ہوں اور اچھی ساکھ رکھتی ہوں۔ اس منصوبے پر ای پی سی (انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن) ماڈل کے تحت عملدرآمد کیا جائے گا، جبکہ بولی کا طریقہ کار دو مراحل اور دو لفافوں پر مشتمل ہوگا، جو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے قواعد کے مطابق ہوگا۔سی ڈی اے کے مطابق منصوبے سے متعلق تمام تفصیلی دستاویزات، جن میں تکنیکی شرائط، اہلیت کے معیار اور دیگر ضوابط شامل ہیں، سرکاری ای-پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز EPADS اور PPRA پر موجود ہیں، جہاں رجسٹرڈ بولی دہندگان انہیں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

دلچسپی رکھنے والی فرمیں اپنی الیکٹرانک بولیاں 16 فروری 2026 کو صبح 11 بج کر 30 منٹ تک EPADS کے ذریعے جمع کرا سکیں گی۔ ہر بولی کے ساتھ 120 ملین روپے کی بولی سیکیورٹی جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، جو پے آرڈر یا کال ڈپازٹ رسید (CDR) کی صورت میں ڈی ڈی او پروکیورمنٹ اینڈ کنٹریکٹ، سی ڈی اے کے نام پر قابلِ قبول ہوگی۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ کاغذی یا دستی بولیاں کسی صورت منظور نہیں کی جائیں گی۔ٹینڈر نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ موصول ہونے والی الیکٹرانک بولیاں اسی روز دوپہر 12 بجے سی ڈی اے کی پروکیورمنٹ کمیٹی اور بولی دہندگان کے مجاز نمائندوں کی موجودگی میں سی ڈی اے سیکریٹریٹ، سیکٹر جی-7/4 اسلام آباد میں کھولی جائیں گی۔قابلِ ذکر ہے کہ دارالحکومت میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کو کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کے مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…