اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — پاکستانی آل راؤنڈر عماد وسیم نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کا بوجھ خود اٹھائیں اور شکست کی صورت میں دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے خود احتسابی کریں۔
کولمبو میں بھارت کے خلاف حالیہ مقابلے میں پاکستان کو 61 رنز سے شکست ہوئی تھی۔ ایک اسپورٹس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عماد وسیم نے اس خیال کو غلط قرار دیا کہ ٹیم کی ناکامی کی بڑی وجہ کم تجربہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق اسکواڈ کے زیادہ تر کھلاڑی سو سے زائد ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکے ہیں، اس لیے شکست کی اصل وجہ کسی اور کو نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو خود دیکھنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنا تجربہ رکھنے کے باوجود ٹیم آئی سی سی ایونٹس میں کامیابی حاصل نہیں کر پا رہی تو مسئلہ نظام یا کوچنگ اسٹاف نہیں بلکہ کارکردگی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سینئر اور تجربہ کار کرکٹرز کو اپنی ذمہ داری تسلیم کرنی چاہیے اور مینجمنٹ پر الزام ڈالنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی اور محمد عامر کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ ورلڈ کپ جیتیں، کیونکہ دونوں کئی برسوں سے دنیا بھر کی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلتے آ رہے تھے، مگر حالات منصوبے کے مطابق نہ بن سکے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں بھارت کے خلاف میچ کا حوالہ دیتے ہوئے عماد وسیم نے کہا کہ 23 گیندوں پر 15 رنز بنانے کے بعد انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اگلے ہی دن انہوں نے ڈریسنگ روم میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ ان کے مطابق غلطی مان لینے سے انسان کی عزت کم نہیں ہوتی بلکہ یہی رویہ بہتری کا راستہ دکھاتا ہے۔
انہوں نے موجودہ کھلاڑیوں کو نصیحت کی کہ وہ شکست کی صورت میں ذمہ داری قبول کریں، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ٹیم بھارت کے خلاف اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی—بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں خامیاں تھیں—اس لیے ضروری ہے کہ ان غلطیوں کو تسلیم کر کے انہیں درست کیا جائے۔



















































