واشنگٹن (این این آئی)واشنگٹن میں ہونے والے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں صدر ٹرمپ کے خطاب کے بعد ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ اور قطر کے نمائندگان نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی عالمی کوششوں میں اپنے کردار کو مزید واضح کردیا۔ترکیہ نے غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس کیلئے اپنی فوج بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ قطر نے امن منصوبے کی حمایت کیلئے ایک ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری حکومت غزہ میں نہ صرف فوجی دستے بھیجنے کیلئے تیار ہے بلکہ صحت، تعلیم اور فلسطینی پولیس فورس کی تربیت میں بھی عملی کردار ادا کرنا چاہتا ہیتاہم وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس بات پرخبردار بھی کیا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں غزہ میں غیر ملکی فورس کی تعیناتی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔اجلاس سے خطاب میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے اعلان کیا کہ قطر غزہ کی تعمیر نو کے مشن کی حمایت کیلئے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
انہوںنے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی صدرکی قیادت میں بورڈ آف پیس 20نکاتی امن منصوبے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے گا تاکہ خطے میں انصاف اور استحکام ممکن ہو سکے۔شیخ محمد بن عبدالرحمن نے واضح طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کا حوالہ دیا اور کہا کہ قطر ایسی حتمی حل کی حمایت کرتا ہے جو فلسطینیوں کو ریاست اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا حق دے، جبکہ اسرائیل کو سلامتی اور علاقائی انضمام حاصل ہو۔



















































