لاہور( این این آئی)حکومت نے قابل تجدید توانائی کے موثر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئی پالیسی پر غور شروع کردیا ہے
جس کے تحت بیٹری بیک اپ رکھنے والے سولر سسٹم کے صارفین رات کے وقت قومی گرڈ کو بجلی فراہم کرکے فی یونٹ 18 سے 22 روپے تک معاوضہ حاصل کرسکیں گے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے تیار کی گئی اس تجویز کا مقصد ایسے لاکھوں صارفین کو قومی بجلی کے نظام کا فعال حصہ بنانا ہے جو دن کے وقت سولر پینلز سے بجلی پیدا کرکے اپنی بیٹریوں میں ذخیرہ کرتے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت صارفین شام کے اوقات خصوصاً شام 5 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان جب ملک میں بجلی کی طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے اپنی اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرسکیں گے۔حکام کے مطابق پاکستان میں شام کے وقت بجلی کی طلب تقریباً 26 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ اسی وقت سولر پینلز کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں اگر گھریلو اور تجارتی صارفین اپنی بیٹریوں میں محفوظ بجلی گرڈ کو فراہم کریں تو نہ صرف بجلی کی قلت میں کمی آئے گی بلکہ مہنگے فرنس آئل اور درآمدی ایندھن سے چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار بھی کم کیا جاسکے گا۔تجویز کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے ٹائم آف یوز نیٹ بلنگ یا نیٹ میٹرنگ متعارف کرائی جائے گی
جس کے تحت مختلف اوقات میں بجلی کی قیمت مختلف ہوگی۔ شام کے مصروف اوقات میں گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کی قیمت زیادہ رکھی جائے گی تاکہ صارفین کو بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنے اور بعد ازاں گرڈ کو فروخت کرنے کی ترغیب ملے۔پاور ڈویژن کی یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس پر عملدرآمد سے قبل متعلقہ ریگولیٹری اداروں، بالخصوص نیپرا، کی منظوری اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کا اجرا ضروری ہوگا۔ حتمی منظوری کے بعد ہی اس اسکیم کی شرائط، معاوضے کی شرح، اہل صارفین اور طریقہ کار کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔



















































