جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل

datetime 3  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں تعینات امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ

محدود فوجی وسائل کے باعث اگر مزید بحری مدد فراہم نہ کی گئی تو انہیں اسرائیل کے بجائے امریکا کے دفاع کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی یورپی کمان کے سربراہ جنرل الیکسس گرنگیوچ نے پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے تحفظ دینے کے لیے موجودہ بحری وسائل ناکافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بحریہ کا ایک اور ڈسٹرائر فراہم نہ کیا گیا تو دستیاب وسائل کو امریکا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مسلسل فوجی سرگرمیوں نے امریکی دفاعی صلاحیتوں اور وسائل پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ جنرل گرنگیوچ کا پیغام غیر معمولی نہیں، بلکہ ماضی میں بھی سینئر فوجی کمانڈرز ممکنہ خطرات اور وسائل کی کمی سے متعلق پینٹاگون کو اسی نوعیت کی تحریری رپورٹس بھیجتے رہے ہیں تاکہ پالیسی ساز بروقت فیصلے کر سکیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں مختلف فوجی کمانڈز محدود دفاعی وسائل اور جدید ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کرتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری تنازع کے باعث امریکی فوج کے اہم دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی کے فیصلے کے بعد خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحریہ کے ڈسٹرائرز کئی برسوں سے اسرائیل کے دفاعی نظام کا اہم حصہ رہے ہیں۔ یہ جدید ریڈار اور میزائل دفاعی نظام سے لیس جنگی جہاز ایران اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے جانے والے متعدد میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…