اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا،
جس میں امریکی صدر نے غزہ کی سیکیورٹی صورتحال اور وہاں ممکنہ بین الاقوامی تعیناتیوں سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس کے جلد غیر مسلح ہونے کے امکانات ہیں، اور اس کے بعد خطے میں نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی فورسز تعینات کی جائیں گی۔ ان کے مطابق انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان اس عالمی استحکامی مشن کے لیے اپنی فوج اور پولیس فراہم کرنے پر رضامند ہو چکے ہیں۔ صدر نے ان ممالک کے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ فورس غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے، انسانی امداد کی ترسیل کو محفوظ بنانے اور انتظامی معاملات میں مدد فراہم کرے گی، جبکہ مصر اور اردن تربیت اور معاونت کے ذریعے ایک قابلِ اعتماد فلسطینی پولیس نظام کے قیام میں کردار ادا کریں گے۔امریکی صدر کے مطابق مجوزہ بین الاقوامی فورس کی مجموعی تعداد 18 ہزار سے 22 ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے، جن میں تقریباً 10 سے 12 ہزار اہلکار بیرونی ممالک سے ہوں گے۔ سب سے زیادہ نفری بھیجنے کا عندیہ انڈونیشیا نے دیا ہے، جس کے دستوں کی تعداد تقریباً دو سے ڈھائی ہزار ہو سکتی ہے۔
مراکش 1500 سے 2000، قازقستان 1200 سے 1500، البانیہ 700 سے 1000 اور کوسوو 600 سے 800 اہلکار فراہم کرے گا۔مزید بتایا گیا کہ مصر اور اردن کے اہلکار بھی موجود ہوں گے مگر ان کی ذمہ داری براہ راست کارروائی کے بجائے نگرانی اور تربیت تک محدود رہے گی۔ حکام کے مطابق شریک ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف محدود نوعیت کے امن مشنز، جیسے سرحدی نگرانی، امدادی قافلوں کی حفاظت اور حساس مقامات کی سیکیورٹی، میں حصہ لیں گے اور کسی بھی مسلح تصادم یا ہتھیار ضبط کرنے جیسے آپریشنز میں شامل نہیں ہوں گے۔



















































