جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے نئی شرط عائد

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) صوبائی حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے طریقۂ کار میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پری لائسنس ٹریننگ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

اب بغیر باقاعدہ تربیت کے کسی امیدوار کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے 50ویں اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے بھر میں باقاعدہ ڈرائیور ٹریننگ اسکول قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں طے پایا کہ ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل (ایچ ٹی وی) اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل (ایل ٹی وی) کے خواہشمند امیدواروں کے لیے تربیت مکمل کرنا لازمی ہوگا، اور لائسنسنگ اتھارٹیز صرف مستند اداروں سے تصدیق شدہ اسناد کی بنیاد پر ہی درخواستوں پر کارروائی کریں گی۔حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ ڈرائیورز کو تربیت دے کر انہیں لائسنس جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جن میں 62 ہزار 500 ایل ٹی وی اور 37 ہزار 500 ایچ ٹی وی ڈرائیور شامل ہوں گے۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے چار اداروں میں مراکز قائم کیے جائیں گے، جن میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ کراچی، گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج دادو، گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سکھر اور گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ کمرشل ایجوکیشن نوشہرو فیروز شامل ہیں۔ بعد ازاں کراچی میں مزید بڑے تربیتی مراکز قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ان مراکز میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں ملٹی میڈیا کلاس رومز، کمپیوٹرائزڈ تھیوری لیبز، ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی سیمولیٹرز، پریکٹس یارڈ، آن روڈ ٹریننگ اور موقع پر لائسنسنگ ڈیسک شامل ہوں گے۔

موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت یہ شرط قانونی طور پر نافذ کی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر حفاظت کو بہتر بنانا، پیشہ ورانہ ڈرائیونگ کے معیار کو بلند کرنا اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ عالمی سطح پر یورپ، آسٹریلیا، چین، ترکی اور خلیجی ممالک میں تربیت یافتہ ڈرائیورز کی مانگ میں اضافے کے پیش نظر یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ٹرانسپورٹ شعبہ جی ڈی پی میں 10 سے 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، تاہم بیرون ملک جانے والے ڈرائیورز میں سندھ کا حصہ نہایت کم رہا ہے۔اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیروں اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی، جبکہ منصوبے کی تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف روڈ سیفٹی بہتر ہوگی بلکہ نوجوانوں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…