منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے نئی شرط عائد

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) صوبائی حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے طریقۂ کار میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پری لائسنس ٹریننگ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

اب بغیر باقاعدہ تربیت کے کسی امیدوار کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے 50ویں اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے بھر میں باقاعدہ ڈرائیور ٹریننگ اسکول قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں طے پایا کہ ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل (ایچ ٹی وی) اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل (ایل ٹی وی) کے خواہشمند امیدواروں کے لیے تربیت مکمل کرنا لازمی ہوگا، اور لائسنسنگ اتھارٹیز صرف مستند اداروں سے تصدیق شدہ اسناد کی بنیاد پر ہی درخواستوں پر کارروائی کریں گی۔حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ ڈرائیورز کو تربیت دے کر انہیں لائسنس جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جن میں 62 ہزار 500 ایل ٹی وی اور 37 ہزار 500 ایچ ٹی وی ڈرائیور شامل ہوں گے۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے چار اداروں میں مراکز قائم کیے جائیں گے، جن میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ کراچی، گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج دادو، گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سکھر اور گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ کمرشل ایجوکیشن نوشہرو فیروز شامل ہیں۔ بعد ازاں کراچی میں مزید بڑے تربیتی مراکز قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ان مراکز میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں ملٹی میڈیا کلاس رومز، کمپیوٹرائزڈ تھیوری لیبز، ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی سیمولیٹرز، پریکٹس یارڈ، آن روڈ ٹریننگ اور موقع پر لائسنسنگ ڈیسک شامل ہوں گے۔

موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت یہ شرط قانونی طور پر نافذ کی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر حفاظت کو بہتر بنانا، پیشہ ورانہ ڈرائیونگ کے معیار کو بلند کرنا اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ عالمی سطح پر یورپ، آسٹریلیا، چین، ترکی اور خلیجی ممالک میں تربیت یافتہ ڈرائیورز کی مانگ میں اضافے کے پیش نظر یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ٹرانسپورٹ شعبہ جی ڈی پی میں 10 سے 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، تاہم بیرون ملک جانے والے ڈرائیورز میں سندھ کا حصہ نہایت کم رہا ہے۔اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیروں اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی، جبکہ منصوبے کی تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی تقرری کی بھی منظوری دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف روڈ سیفٹی بہتر ہوگی بلکہ نوجوانوں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…