جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے سرکاری اداروں کی اہمیت، مگر اصلاح کی ضرورت ہے، ووڈرو ولسن سینٹر

datetime 10  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی) واشنگٹن میں ووڈرو ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام نے کہاہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں کی اہمیت بہت زیادہ مگر ان میں اصلاح کی ضرورت ہے،امریکی ٹی وی کے مطابق واشنگٹن میں ووڈرو ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام نے پاکستان کے اداروں کے بارے میں ایک نئی کتاب شائع کی ہے جس میں یہ سفارشات شامل کی گئی ہیں کہ ان اداروں کی کارکردگی کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

ولسن سینٹر کے تحت پاکستان کے اداروں پر اس تحقیق نے پارلیمان، عدلیہ اور دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی میں انحطاط کی تفصیل کے ساتھ ساتھ ان میں بہتری کی تجاویز بھی بیان کی گئی ہیں۔اس مقالے کی ادارت ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا اور ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈئیرکٹر مائیکل کوگل مین نے کی ہے، جبکہ پاکستان سے متعدد ماہرین نے اس میں مقالے لکھے ہیں، جن میں عشرت حسین، مدیحہ افضل، وارث حسین، محمود مانڈوی والا، احمد بلال محبوب، عمر سیف، عدنان خان اور عاصم خواجہ شامل ہیں۔ماہرین نے کہاکہ پاکستان کے لیڈر اگر ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، تو اْنہیں پہلے ان اداروں کو فعال بنانا ہوگا۔ پاکستان میں صرف چند ہفتوں بعد، انتخابات ہو رہے ہیں۔آئندہ حکومت ان اداروں کو فعال بنانے میں کیسے کامیاب ہو سکتی ہے، اس بارے میں مائیکل کوگل مین نے کہاکہ وہ زیادہ پرامید نہیں ہیں پاکستان میں سیاسی اختلافات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ حکومت خواہ کوئی بھی آئے، اس بارے میں خدشات موجود ہیں کہ اداروں میں اصلاحات میں کوئی اتفاقِ رائے ہو پائے گا۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے پہلے چار عشروں کے دوران اس کی معیشت، ترقی پذیر ملکوں میں، سب سے زیادہ تیزی سے نمو پا رہی تھی، مگر ماہرین نے کہاکہ 1990 کے عشرے میں اس کی شرح نمو چھہ اعشاریہ پانچ سے چار اعشاریہ پانچ فیصد تک آگئی۔ماہرین کے مطابق ایسا نہ تو سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث ہوا اور نہ ہی غیر ملکی امداد اور اخراجات میں عدم توازن کے وجہ سے۔ تاہم، حکومتی اداروں میں انحطاط کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتحال میں تنزلی ضرور آئی۔کوگل مین نے کہاکہ حکومت نے اداروں میں لوگوں کی تقرری میرٹ پر نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلی عہدوں پر ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں اپنے کام سے کوئی سروکار نہیں۔

بلکہ وہ وہاں محض اپنے سیاسی روابط اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے موجود ہیں۔ولسن سینٹر کے مائیکل کوگل مین نے کہاکہ اس کتاب میں پاکستانی ماہرین نے کافی قابلِ قدر تجاویز پیش کی ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نئی پارلیمان آنے پر بجٹ پر تفصیلی بحث کی جائے اور ایسا میکینزم موجود ہو کہ نو منتخب اراکین پارلیمان، بجٹ سے متعلق بحث میں زیادہ حصہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…