منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں 2لاکھ 39ہزار لڑکیاں صنفی امتیاز کے باعث جاں بحق ، لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو ان کیلئے وسائل اور توجہ دونوں انتہائی محدود ہے رپورٹ نے بھارت کے چہرے سے نقاب اتار دیا

datetime 15  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی( آن لائن)بھارت میں پانچ سال سے کم عمر کی 2 لاکھ 39 ہزار لڑکیاں محض صنفی امتیاز کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ لینسنٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں محقق کریسٹفی گلیموٹو نے انکشاف کیا کہ اس رپورٹ میں پیدائش سے قبل ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں تاہم صنفی امتیاز کی بنیاد پر اسقاطِ حمل بھی شامل ہے اور اگر لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو ان کے لیے وسائل اور توجہ دونوں انتہائی محدود ہوتی ہے۔

محقق کا کہنا ہے کہ صنفی امتیاز کا دائرہ کار صرف تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت توجہ، بیماری سے بچا کی ویکسین اور لڑکیوں کی خوراک بھی شامل ہے۔مذکورہ رپورٹ کے لیے بھارت کے 640 اضلاع میں ایسے عناصر کا جائزہ لیا گیا جہاں 5 سال سے کم عمر لڑکیوں کو موت سے بچایا جاسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق بھارت کی 35 میں سے 29 ریاستوں میں 5 سال سے کم عمر کی لڑکیوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔بھارت میں 05-2000 کے درمیانی عرصے میں 4 سال سے کم عمر بچیوں کی موت کی شرح فی ہزار پیدائش میں 18.5 فیصد تھی تاہم موجودہ اعداد و شمار کے مطابق محض صنفی امتیاز برتنے سے شرح اموات میں 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔محققین کے مطابق بھارت کے تمام اضلاع میں لڑکیوں کی شرح اموات کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے لیکن 4 ریاستوں اتر پردیش، بیہار، راجستھان اور مدھیہ پردیشن میں 2 تھائی شرح اموات ریکارڈ کی گئیں۔تحقیق کے مطابق ہلاک ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد دیہی علاقوں سے ہے جہاں تعلیم انتہائی کم اور شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں بیٹی کے مقابلے بیٹے کی پیدائش کو ترجیح دی جاتی ہے اور اسی سبب لڑکیوں کو بنیادی سہولیات زندگی سے محروم رکھا جاتا ہے اور یوں ان کی شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…