اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

حماس نے فلسطین نیشنل کونسل اجلاس کے تمام اعلانات مسترد کر دیے، فوری طور پر کیا مطالبہ کر دیا؟

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

غزہ(نیوز ڈیسک)فلسطینی تحریک حماس نے فلسطین نیشنل کونسل اجلاس کے تمام اعلانات مسترد کردیے،حماس نے ملک میں فوری طورپر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے غرب اردن میں صدر محمود عباس کی زیر صدارت منعقد ہونے والے فلسطین نیشنل کونسل کے اجلاس کے تمام فیصلے مسترد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ہے جس سیاسی گروپ کی طرف سے

فلسطین نیشنل کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا ہے وہ فلسطینی قوم کی نمائندگی نہیں کرتا۔خیال رہے کہ فلسطین نیشنل کونسل کا اجلاس نو سال کے بعد کل تیس اپریل کو رام اللہ میں صدر محمود عباس کی زیرصدارت ہوا۔ حماس سمیت کئی دوسری جماعتیں پہلے ہی اس اجلاس کا بائیکاٹ کرچکی ہیں۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔غزہ میں اپنے گھر پر جمع ایک اجتماع سے خطاب میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ’ہم رام اللہ میں ہونے والے فلسطین نیشنل کونسل کے اجلاس اور اس کے فیصلوں کو نہیں مانتے۔ یہ اجلاس ایک مخصوص لابی اور گروپ کا اقدام ہے جو فلسطینی قوم کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کا حق نہیں رکھتا۔انہوں نے صدر محمود عباس پر تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام عاید کیا کہ وہ نیشنل کونسل کے اجلاس کے ذریعے آئینی تحفظ حاصل کرنے کے ساتھ اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کررہے ہیں، مگر ان کا یہ اقدام انہیں آئینی جواز فراہم نہیں کرسکتا۔حماس کے لیڈر نے ملک میں فوری طورپر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نام نہاد نیشنل کونسل کے اجلاس اور اس کے فیصلوں کی پابند نہیں۔ ہم فلسطینی قوم کے مفاد میں اپنے اصولی موقف کے

مطابق کام جاری رکھے گی۔ حماس تنظیم آزادی فلسطین کے بارے میں اپنے موقف پر اس تک نظر ثانی کرے گی جب تک کہ تمام فلسطینی قوتوں کے لیے اس کے دروازے کھول نہیں دیے جاتے۔اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ فلسطین نیشنل کونسل ایسے ہی ایک دھڑے کی نمائندگی کرتی ہے جیسا کہ تنظیم آزادی فلسطین کی مرکزی کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی جن میں حماس اور اسلامی جہاد کو شامل نہیں کیا گیا۔مبصرین کا خیال ہے کہ فلسطین نیشنل کونسل کا اجلاس کوئی جوہری تبدیلی تو نہیں لائے گا تاہم اجلا میں

ایگزیکٹو کمیٹی کے 18 نئے ارکان کا انتخاب عمل میں لایا جاسکتا۔فلسطین نیشنل کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے والوں میں حماس، اسلامی جہاد اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطینی جیسی بڑی فلسطینی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ 740 ارکان میں سے 100 ارکان نے بھی شرکت نہیں کی۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ کی پٹی اور اسرائیل کی سرحد پر گذشتہ کئی ہفتوں سے فلسطینیوں کی حق واپسی کی تحریک چل رہی ہے جس میں اب تک 45 فلسطینی مظاہرین شہید کیے جا چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…