منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک صارفین کے ڈیٹا کی امریکا منتقلی،وکیل کی مقدمہ رکوانے کی کوشش

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اس کوشش میں ہے کہ اس کے لاتعداد صارفین کے نجی کوائف کی امریکا منتقلی سے متعلق آئرلینڈ میں دائر کیے گئے ایک مقدمے کو کسی بھی طرح یورپ کی اعلی ترین عدالت میں پہنچنے سے روک دیا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بہت بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے ایک وکیل نے تصدیق کر دی کہ فیس بک کی انتظامیہ اپنے خلاف

آئرش پرائیویسی کیس کو یورپی عدالت انصاف تک پہنچنے سے رکوانے کے لیے حرکت میں آ گئی ہے۔اس طرح فیس بک اپنے خلاف ان ممکنہ عدالتی اقدامات سے بچنا چاہتی ہے، جن کے تحت اس کے لیے ان قانونی شقوں کا استعمال غالبا ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے، جن کی بنیاد پر یہ کمپنی اپنے صارفین کا نجی ڈیٹا ابھی تک امریکا منتقل کر دیتی ہے۔فیس بک کے قانونی مشیر پال گالاہر نے ڈبلن میں آئرش ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ امریکی کمپنی ایک حکم امتناعی کے ذریعے آئرش ہائی کورٹ کو اس امر سے روکنا چاہتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک مقدمہ سماعت کے لیے یورپی عدالت انصاف کو بھیج دے۔پال گالاہر کے بقول ایسا اس لیے ضروری ہے کہ اس مقدمے کو یورپ کی اعلی ترین عدالت میں بھیج دینے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ آئرش ہائی کورٹ کے بجائے آئرش سپریم کورٹ کو کرنا چاہیے اور آئرش سپریم کورٹ کو اس حوالے سے اپیل کی سماعت کے لیے وقت درکار ہو گا۔فیس بک کی ان کاوشوں کا پس منظر یہ ہے کہ آئرش ہائی کورٹ نے اسی مہینے اس حوالے سے ایک مقدمہ یورپی عدالت انصاف کو بھیج دینے کی سفارش کی تھی، جس میں فیس بک کی طرف سے اپنے صارفین کے پرسنل ڈیٹا کی امریکا منتقلی کے عمل کا تمام قانونی پہلوں سے جائزہ لیا جائے گا۔ فیس بک اس کیس ٹرانسفر کے خلاف اپیل دائر کر چکی ہے۔اس مقدمے میں عدالت کو فیصلہ ایک پرائیویسی شیلڈ نامی معاہدے کی ان قانونی شقوں کے بارے میں کرنا ہے، جن کی بنیاد پر یہ سوشل میڈیا ویب سائٹ اپنے صارفین کے نجی ڈیٹا کو امریکا منتقل کر دیتی ہے، جہاں اس کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…