جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

فیس بک صارفین کے ڈیٹا کی امریکا منتقلی،وکیل کی مقدمہ رکوانے کی کوشش

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اس کوشش میں ہے کہ اس کے لاتعداد صارفین کے نجی کوائف کی امریکا منتقلی سے متعلق آئرلینڈ میں دائر کیے گئے ایک مقدمے کو کسی بھی طرح یورپ کی اعلی ترین عدالت میں پہنچنے سے روک دیا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بہت بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے ایک وکیل نے تصدیق کر دی کہ فیس بک کی انتظامیہ اپنے خلاف

آئرش پرائیویسی کیس کو یورپی عدالت انصاف تک پہنچنے سے رکوانے کے لیے حرکت میں آ گئی ہے۔اس طرح فیس بک اپنے خلاف ان ممکنہ عدالتی اقدامات سے بچنا چاہتی ہے، جن کے تحت اس کے لیے ان قانونی شقوں کا استعمال غالبا ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے، جن کی بنیاد پر یہ کمپنی اپنے صارفین کا نجی ڈیٹا ابھی تک امریکا منتقل کر دیتی ہے۔فیس بک کے قانونی مشیر پال گالاہر نے ڈبلن میں آئرش ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ امریکی کمپنی ایک حکم امتناعی کے ذریعے آئرش ہائی کورٹ کو اس امر سے روکنا چاہتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک مقدمہ سماعت کے لیے یورپی عدالت انصاف کو بھیج دے۔پال گالاہر کے بقول ایسا اس لیے ضروری ہے کہ اس مقدمے کو یورپ کی اعلی ترین عدالت میں بھیج دینے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ آئرش ہائی کورٹ کے بجائے آئرش سپریم کورٹ کو کرنا چاہیے اور آئرش سپریم کورٹ کو اس حوالے سے اپیل کی سماعت کے لیے وقت درکار ہو گا۔فیس بک کی ان کاوشوں کا پس منظر یہ ہے کہ آئرش ہائی کورٹ نے اسی مہینے اس حوالے سے ایک مقدمہ یورپی عدالت انصاف کو بھیج دینے کی سفارش کی تھی، جس میں فیس بک کی طرف سے اپنے صارفین کے پرسنل ڈیٹا کی امریکا منتقلی کے عمل کا تمام قانونی پہلوں سے جائزہ لیا جائے گا۔ فیس بک اس کیس ٹرانسفر کے خلاف اپیل دائر کر چکی ہے۔اس مقدمے میں عدالت کو فیصلہ ایک پرائیویسی شیلڈ نامی معاہدے کی ان قانونی شقوں کے بارے میں کرنا ہے، جن کی بنیاد پر یہ سوشل میڈیا ویب سائٹ اپنے صارفین کے نجی ڈیٹا کو امریکا منتقل کر دیتی ہے، جہاں اس کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…