منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف توہین آمیز ریمارکس، بھارت میں مسلمان سڑکوں پر نکل آئے، پولیس چوکی نذر آتش، ، ہنگامے کئی اضلاع تک پھیل گئے ،

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

لکھنو(این این آئی) بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کی جانب اسلام کے سلسلے میں کئے گئے نازیبا تبصرے کیخلاف زبردست مظاہرے ہوئے جس میں مظاہرین نے خطاکار کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیااور شر پسند عناصر کیخلاف قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے پر زور دیا لیکن افسران اور پولیس کی ٹال مٹول سے لوگ سخت برہم ہوئے اور مظاہرہ پر تشدد ہوگیا ۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق اس واقعہ پر ضلع کے کئی مقامات پر ہنگامہ آرائی ہوئی جس میں سرائے میر سب سے زیادہ متاثر رہا ۔یہاں عوام نے برہم ہوکر پولیس چوکی کو نذر آتش کردیا ،تھانے پر پتھراو کیا پولیس کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی ۔لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھنے کے بعد ضلع انتظامیہ نے سرائے میر میں پولیس اور پی ا ے سی تعینات کردی ۔ ضلع وکاس بھون کے حدود میں کچھ لوگ لاش بن کر لیٹ گئے، ان کی چادروں پر خون کے دھبے بھی تھے اور کچھ عورتیں گریہ و زاری کررہی تھیں ۔پتہ چلا کہ یہ جوابی کارروائی آر ایس ایس کے کارکنوں نے کی تھی تاکہ ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا جائے اور انتظامیہ اقلیتی فرقہ کیخلاف جتنی بھی سخت ہوسکتی ہے کارروائی کرے۔ دراصل سرائے میرکے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف قابل توہین ریمارکس کیا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ،یہ خبر جب عام لوگوں تک پہنچی تو لوگ تھانے پہنچ گئے ۔ ضلع وکاس بھون کے حدود میں کچھ لوگ لاش بن کر لیٹ گئے، ان کی چادروں پر خون کے دھبے بھی تھے اور کچھ عورتیں گریہ و زاری کررہی تھیں ۔پتہ چلا کہ یہ جوابی کارروائی آر ایس ایس کے کارکنوں نے کی تھی تاکہ ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا جائے اور انتظامیہ اقلیتی فرقہ کیخلاف جتنی بھی سخت ہوسکتی ہے کارروائی کرے۔ دراصل سرائے میرکے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف قابل توہین ریمارکس کیا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ،یہ خبر جب عام لوگوں تک پہنچی تو لوگ تھانے پہنچ گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…