جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

خواتین کو انتہائی نامناسب لباس میں دکھایا گیا، ریسلنگ میں نامناسب مناظر نشر کرنے پر کھیلوں کے حکام نے معذرت کر لی ، افسوسناک انکشاف

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کھیلوں کے حکام نے ریسلنگ کے مقابلوں کے دوران نامناسب مناظر دکھائے جانے پر معذرت کی ہے۔ جمعہ کو سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں عالمی ریسلنگ انٹرٹینمنٹ یعنی ڈبلیو ڈبلیو ای کے اشراکت سے ریسلنگ کا ایونٹ گریٹیسٹ رائل رمبل منعقد ہوا تھا۔ سعودی عرب کی ثقافت کے پیش نظر ریسلنگ کے مقابلوں میں خواتین ریسلرز کو شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن مقابلے کے دوران مخصتر کپڑوں میں ملبوس خواتین کو بڑی بڑی سکرینوں پر نشر کی جانے والی

تشہری ویڈیو میں دکھایا گیا۔ اس ویڈیو پر سعودی عرب میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خوب تنقید کی گئی تھی کیونکہ سعودی خواتین اور بچے بھی ان مقابلوں کو دیکھنے والے 60 ہزار شائقین میں شامل تھیں جنھوں نے نیم برہنہ مرد ریسلرز کو ایک دوسرے کو رنگ میں ایک دوسرے کو چت کرتے دیکھا۔ بی بی سی کے مطابق سعودی عرب میں ایک وقت تھا جب عوام کے لیے ریسلنگ کے مقابلے بالکل اجبنی تھے لیکن گذشتہ ایک یا دو برس سے کافی چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں اور اب بچوں اور خواتین سمیت 60 ہزار شائقین کی کثیر تعداد ریسلنگ کے مقابلے دیکھنے کے لیے جمع تھی۔ عالمی ریسلنگ انٹرٹینمنٹ ڈبلیو ڈبلیو ای پر اس ایونٹ سے پہلے ہی سعودی روایات کے سامنے جھکنے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی تھی کیونکہ خواتین ریسلرز کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن جب ایونٹ شروع ہوا تو اس کو سعودی عرب کے متعدد ٹی وی چینلز پر نشر کیا جا رہا تھا اور اسی دوران مقامی احساسات کے برخلاف ایک تشہری فلم نشر کی گئی جس میں خواتین ریسلرز کو دکھایا گیا۔ سرکاری ٹی وی چینل نے اس موقع پر نشریات کو روک دیا لیکن پھر بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر قدامت پسند سعودیوں کی جانب سے خوب تنقید کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی کے مطابق سعودی عرب نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے ساتھ دس سالہ معاہدہ کیا ہے

جس کے تحت آئندہ دس برس تک سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ریسلنگ کے عالمی مقابلے منعقد ہوں گے جن میں مختلف کیٹیگریز کے عالمی شہرت یافتہ ریسلرز شریک ہوں گے۔ سعودی عرب میں گذشتہ دنوں 35 برس کے طویل وقفے کے بعد سنیما گھر کھلے تھے۔ اس کے علاوہ خواتین کو سٹیڈیمز میں جانے کی اجازت ملنے کے علاوہ رواں برس جون سے انھیں گاڑی چلانے کی اجازت بھی ہو گی۔ سعودی عرب میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…