اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر کی ننھی آصفہ کی بھارتی وکیل ہندو دشمن قرار والد نے سپریم کورٹ سے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی،سری نگر ،لندن(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں زیادتی کے بعد سفاکی سے قتل ہونے والی 8 سالہ بچی آصفہ کا کیس لڑنے والی خاتون وکیل دیپیکا سنگھ راوت نے کہاہے کہ مجھے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ہندو دشمن بھی قرار دے دیا گیا ہے، میرا سوشل بائیکاٹ ہو چکا ہے، آگے کیا ہوگا پتا نہیں۔متاثرہ خاندان کا کیس لڑنے والی خاتون وکیل کا کہنا تھا۔

کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر کی 8سالہ آصفہ کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا، دوسری جانب مقتولہ کے والد نے سپریم کورٹ میں کیس مقبوضہ کشمیر سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کر دی ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں آصفہ کے قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی، تمام آٹھ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے چارج شیٹ کی کاپیاں تمام ملزمان کو دینے کا حکم دیا ہے، کیس کی اگلی سماعت کل ملتویٰ کردی گئی ۔دوسری جانب آصفہ کے والد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ سیکیورٹی خدشات پر کیس کو مقبوضہ کشمیر سے باہر منتقل کیا جائے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیرکی آصفہ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات نے بھارت بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی، ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔مقبوضہ کشمیرکی آصفہ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور اتر پردیش کی لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعے پر نئی دہلی، ممبئی، گوا، بنگلورو سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے،مظاہرین نے قاتلوں کے علاوہ آصفہ کے قتل پر سیاست کرنے والوں کو بھی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔

بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کے تحفظ اور ملزمان کے خلاف تفتیش میں سست روی کا مظاہرہ کررہی ہے۔علاوہ ازیں برطانیہ میں اقلیتوں نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم سے متعلق تصویریں بسوں پر لگا دیں، کامن ویلتھ کانفرنس کیلئے نریندر مودی کی برطانیہ آمد پر بھرپوراحتجاج کا بھی اعلان کیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کامن ویلتھ کانفرنس کے موقع پرمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے، جس کیلئے بسوں پربھارتی مظالم سے متعلق تصاویرآویزاں کی گئی ہیں۔یہ بسیں اگلے 4دن وسطی لندن میں گشت کریں گی، جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی برطانیہ آمد پر بھرپور احتجاج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…