اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

اس کی قبر کھودی جارہی تھی کہ وہاں ہندو پہنچ گئے اور۔۔مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی ایک اور تاریخ رقم، مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد بیدردی سے قتل کی گئی ننھی آصفہ کی لاش کیساتھ ہندوئوں نےوالد اور دادا کے سامنے کیا سلوک کیا؟افسوسناک انکشاف

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں کمسن مسلمان بچی آصفہ کی اجتماعی آبروریزی اور سفاکانہ قتل کے واقعے نے جہاںبھارت کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیاہے وہیں بھارت میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاََ مسلمانوں کے ساتھ انتہا پسند ہندئوں کے انسانیت سوز سلوک نے بھی سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مقتولہ آصفہ بانو کے خاندان کو انتہا پسند ہندوئوں نے

علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے، اور سفاکیت کی حد یہ ہے کہ ہندو شدت پسندوں نے ننھی لڑکی کی تدفین کے لئے قبر کی جگہ بھی نہیں دی۔ ننھی آصفہ اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر خود بھارتی میڈیاکی رپورٹس گواہی دے رہی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کٹھوعہ میں ظلم کی ایسی داستان رقم کی گئی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آٹھ سالہ آصفہ بانو کی مسخ شدہ لاش کو فنانے کے لئےاس کے اہل خانہ کٹھوعہ میں قبر کھودنے میں مصروف تھے کہ اسی دوران گاؤں کے سب ہندو اکٹھے ہو کر آ گئے اور قبر کی کھدوائی رکوا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ زمین مسلمانوں کی نہیں، وہ بچی کو دفن کرنے کے لئے کہیں اور لے جائیں۔ اس وقت شام ڈھل چکی تھی لیکن مظلوم آصفہ کے بے کس ورثاء کے لئے گاؤں چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ اپنے گاؤں سے نکلے اور رات کی تاریکی میں دشوار گزار پہاڑی راستوں پر چلتے ہوئے آٹھ کلومیٹر دور جا کر رکے جہاں بالآخر بچی کی تدفین کی۔ اس ویران مقام پر آصفہ کی چھوٹی سی قبر اس پر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کرتی دکھائی دیتی ہے۔ آصفہ کے کے دادا نے اس ظلم پر آنسو بہاتے ہوئے کہا ’’اس کمسن کی لاش کے لئے کتنی زمین چاہیے تھی؟ ہماری بانہوں میں اس بچی کی لاش تھی جس کی عصمت دری کرکے اسے قتل کردیا گیا۔ ایسے وقت پر گاؤں

والوں کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔‘‘کمسن آصفہ کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ جب اس کی لاش ملی تو وہ شام کا وقت تھا۔ آصفہ کی تدفین کے لئےجب انہوں نے قبر کھودنا شروع کی تو گاؤں کے شدت پسند ہندو جمع ہوکر آگئے اور انہوں نے آصفہ کی قبر کھودنے سے منع کردیا۔ بے بس اہلخانہ شام ڈھلنے کے بعد اپنی بچی کی لاش لے کر چلے او ررات کے اندھیرے میں آٹھ کلومیٹر کی دوری پر لیجاکر اسے دفن کیا۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…