جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اس کی قبر کھودی جارہی تھی کہ وہاں ہندو پہنچ گئے اور۔۔مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی ایک اور تاریخ رقم، مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد بیدردی سے قتل کی گئی ننھی آصفہ کی لاش کیساتھ ہندوئوں نےوالد اور دادا کے سامنے کیا سلوک کیا؟افسوسناک انکشاف

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں کمسن مسلمان بچی آصفہ کی اجتماعی آبروریزی اور سفاکانہ قتل کے واقعے نے جہاںبھارت کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیاہے وہیں بھارت میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاََ مسلمانوں کے ساتھ انتہا پسند ہندئوں کے انسانیت سوز سلوک نے بھی سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مقتولہ آصفہ بانو کے خاندان کو انتہا پسند ہندوئوں نے

علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے، اور سفاکیت کی حد یہ ہے کہ ہندو شدت پسندوں نے ننھی لڑکی کی تدفین کے لئے قبر کی جگہ بھی نہیں دی۔ ننھی آصفہ اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر خود بھارتی میڈیاکی رپورٹس گواہی دے رہی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کٹھوعہ میں ظلم کی ایسی داستان رقم کی گئی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آٹھ سالہ آصفہ بانو کی مسخ شدہ لاش کو فنانے کے لئےاس کے اہل خانہ کٹھوعہ میں قبر کھودنے میں مصروف تھے کہ اسی دوران گاؤں کے سب ہندو اکٹھے ہو کر آ گئے اور قبر کی کھدوائی رکوا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ زمین مسلمانوں کی نہیں، وہ بچی کو دفن کرنے کے لئے کہیں اور لے جائیں۔ اس وقت شام ڈھل چکی تھی لیکن مظلوم آصفہ کے بے کس ورثاء کے لئے گاؤں چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ اپنے گاؤں سے نکلے اور رات کی تاریکی میں دشوار گزار پہاڑی راستوں پر چلتے ہوئے آٹھ کلومیٹر دور جا کر رکے جہاں بالآخر بچی کی تدفین کی۔ اس ویران مقام پر آصفہ کی چھوٹی سی قبر اس پر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کرتی دکھائی دیتی ہے۔ آصفہ کے کے دادا نے اس ظلم پر آنسو بہاتے ہوئے کہا ’’اس کمسن کی لاش کے لئے کتنی زمین چاہیے تھی؟ ہماری بانہوں میں اس بچی کی لاش تھی جس کی عصمت دری کرکے اسے قتل کردیا گیا۔ ایسے وقت پر گاؤں

والوں کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔‘‘کمسن آصفہ کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ جب اس کی لاش ملی تو وہ شام کا وقت تھا۔ آصفہ کی تدفین کے لئےجب انہوں نے قبر کھودنا شروع کی تو گاؤں کے شدت پسند ہندو جمع ہوکر آگئے اور انہوں نے آصفہ کی قبر کھودنے سے منع کردیا۔ بے بس اہلخانہ شام ڈھلنے کے بعد اپنی بچی کی لاش لے کر چلے او ررات کے اندھیرے میں آٹھ کلومیٹر کی دوری پر لیجاکر اسے دفن کیا۔

 



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…