پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

دنیا والو۔۔شام کے شہر غوطہ میں بشار الاسد کی بمباری میں پھنسی دو چھوٹی مسلمان بچیوں کی ایسی ویڈیو منظر عام پر آگئی کہ جس نے ہر شخص کو ہلاکر رکھ دیا، جان کر پاکستانیوں کی بھی آنکھیں نم ہو جائینگے

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یوں تو شام میں جاری خانہ جنگی اور بشار الاسد کی درندہ صفت فوج کی بربریت نے لاکھوں شامیوں کو بے گھر کر دیا ہے اور شام میں جاری لڑائی میں اب تک لاکھوں افراد جن میں عورتیں، بچے، بوڑھے اور مرد شامل ہیں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بشار الاسد اور روسی اتحاد کے طیاروں نے شام کے مختلف شہروں میں شہری آبادیوں پر خوفناک بمباری کی

اور اب شام تاریخی شہر الغوطہ کے مشرقی حصے پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ فضا سے ہوتی بموں کی برسات نے غوطہ شہر کے بچوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے ۔ بشار الاسد کی فوج کرد باغیوں سے شہر کا قبضہ چھڑانے کیلئے اپنے ہی شہریوں کو ہزاروں پائونڈ وزنی بموں کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ لاکھوں شہری شہر میں پھنسے ہوئے اور فضا سے اچانک نمودار ہونی والی اپنی موت کے انتظار میں تباہ حال غوطہ شہر میں محبوس ہو چکے ہیں۔ اسی دوران غوطہ شہر سے دو معصوم بہنوں کی ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس کو دیکھ کر ہر آنکھ نم ہو گئی ہے۔ غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 8سالہ عالا اور 11سالہ نور مشرقی الغوطة میں پھنس کر رہ جانے والے لاکھوں عام شہریوں میں سے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز بمباری سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے پر کھڑے ہو کر ایک ویڈیو بنائی ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے روتے ہوئے پوری دنیا سے مدد کی درخواست کی ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ننھی عالا بمباری سے زخمی ہوتی ہے۔ اس کی بائیں آنکھ کے قریب گال پر ایک گہرا زخم آیا ہوتا ہے جس سے خون بہہ رہا ہوتا ہے اوراس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔اس کے پاس کھڑی نورکی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہوتی ہے ”دنیا والو!خدا کے لیے ہماری مدد کرو۔“

کچھ دیر بعد ان بہنوں نے ایک اور ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ”ایک ماہ قبل بمباری میں ہمارا گھر تباہ ہو گیا تھا۔ اب ہم بے گھر ہیں اور ملبے کا ڈھیر بنی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور ان پر بھی بم برسائے جا رہے ہیں۔“ اس ویڈیو میں بھی نور روتے ہوئے دنیا سے درخواست کرتی ہے کہ ”الغوطة کو بچا لو۔“ ایک اور ویڈیو میں ننھی عالا اپنی گڑیا کو سینے سے لگائے دنیا سے

معصوم سا سوال پوچھتی ہے کہ ”یہ بمباری کیوں نہیں رک رہی؟ اور کتنے بچوں کو مرنا پڑے گا؟ پلیز، پلیز الغوطة کے بچوں کو بچا لو، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔“ ٹوئٹر پر ان معصوم بچیوں کی ویڈیوز نام نہاد عالمی رہنماؤں کے ضمیر جھنجھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تاہم دنیا بھر میں موجود باضمیر لوگوں کا کہنا ہے کہ چند سالوں بعد شاید تاریخ میں انسانیت کے خلاف یہ مظالم اور دنیا کی خاموشی سیاہ ترین باب کے طور پر جانی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…