ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا سے مزید 38 تارکین وطن امریکا روانہ،متعدد پاکستانی بھی شامل

datetime 18  فروری‬‮  2018 |

کینبرا(این این آئی)بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے 38کے تارکین وطن امریکا آباد کاری کے لیے روانہ ہو گئے ۔ ان مہاجرین کی امریکا آبادکاری کا معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو بحر الکاہل کی جزیرہ ریاست ناؤرْو سے پینتیس مہاجرین کا ایک اور دستہ امریکا میں آبادکاری کے لیے روانہ ہو گیا ۔

اتوار کو روانہ ہونے والے اس پانچویں گروپ میں افغانستان، پاکستان، میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کے علاوہ چار بچوں پر مشتمل ایک سری لنکن خاندان بھی شامل ہے۔اس طرح آسٹریلیا سے امریکا میں آباد کیے جانے والے مہاجرین کی تعداد 187 ہو گئی ہے۔ ناؤرْو کے حکومتی حلقوں کا کہنا تھاکہ رواں مہینے کے اختتام کے قریب تارکین وطن کا ایک اور گروپ امریکا کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔ناؤرو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر میں کسی حد تک مقید تقریباً دو ہزار تارکین وطن کی حالت زار کو بہتر بنانے کی حامی ایکشن کمیٹی کے ترجمان ایان رِنٹول کا کہناتھا کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکی حکام ناؤرْو پہنچ رہے ہیں اور وہ مزید تارکین وطن کا انتخاب کریں گے۔رِنٹول کا یہ بھی کہناتھا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا جانے والے مہاجرین کے بعد سیاسی پناہ کے بقیہ متلاشیوں کو فوری طور پر آسٹریلیا میں لا کر اْن کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ ترجمان کے مطابق ان جزائر میں مقیم مہاجرین کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے ان تارکین وطن کو کھلے سمندر میں پکڑ کر ناؤرْو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر میں قائم امیگریشن مراکز میں مقید کر دیا جاتا تھا۔ ان کیمپوں میں مقیم مہاجرین کی حالت زار پر انسانی حقوق کے حلقے مسلسل سراپا احتجاج تھے۔امریکی صدر اوباما کے دور میں انسانی ہمدردی کے تحت ان مہاجرین کی ایک مخصوص تعداد کو امریکا بسانے کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈاس ڈیل کو ’فضول‘ قرار دے چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…