جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی نے روس سے خطرناک ترین ہتھیارخریدلئے،یورپ میں کھلبلی مچ گئی

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کے وزیر دفاع نوریتن کینکلی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس 400میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ کر لیا ہے، تاہم ترکی یورپین کنسوشیم کے ساتھ بھی ایک معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت وہ خود اپنا میزائل دفاعی نظام تیار کرنے میں اْس کی مدد کرے گا۔ترکی نیٹو کا رکن ہے اور نیٹو کے کچھ رکن ممالک

روس سے ایس 400 میزائل خریدنے سے متعلق ترکی کے ارادے کو نیٹو کیلئے تشویش ناک قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے پر اس حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روسی میزائل نیٹو کے دفاعی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیٹو کے ایک سینئر کمانڈر نے خبر رساں ایجنسی کوبتایا کہ نیٹو ترکی پر زور دیتا رہے گا کہ وہ ایسا اسلحہ خریدے جو نیٹو کے دفاعی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر استعمال کیا جا سکے۔ نیٹو کمانڈر نے کہا کہ فی الحال روس سے ایس 400 میزائلوں کو کوئی کھیپ ترکی نہیں پہنچی ہے۔ترکی کے وزیر دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ معاہدہ طے پا گیا ہے اور میزائل خرید لئے گئے ہیں۔ اب صرف تفصیلات کا طے ہونا باقی ہے۔ترکی کے وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ترکی محض روس سے خریدے گئے ایس 400 میزائلوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اْن کا ملک کنسوشیم سے مذاکرات شروع کر چکا ہے تاکہ ترکی میزئلوں کا دفاعی نظام خود تیار کرنے کیلئے ٹیکنالوجی حاصل کر سکے۔ترکی کے وزیر دفاع کینکلی نے اس سلسلے میں برسلز میں فرانس اور اٹلی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں ۔ اْنہوں نے کہا کہ پہلے قدم کے طور پر یوروسیم اور ترکی کی کمپنیاں یوروسیم کے تیار کردہ میزائلوں پر مبنی نظام کی تیاری کا جائزہ لیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…