منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پھر ترکی سے ٹھن گئی،روسی طیاروں کی بمباری ،درجنوں ہلاک

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

دمشق(آئی این پی) شام میں روسی طیاروں کی فضائی بمباری کے نتیجے میں باغی گروپ کے 45 ارکان ہلاک ہو گئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی طیاروں نے شام کے صوبے ادلب کے گاؤں تل مردیخ میں ترکی کے حمایت یافتہ باغی گروپ فیلق الشام کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد روس اور ترکی کے تعلقات میں ایک بار پھر شدید کشیدگی کا امکان پیداہوگیا ہے ۔

شامی مبصر تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ روسی طیاروں نے اس گروپ کو نشانہ کیوں بنایا کیوں کہ یہ گروپ ماسکو کی سربراہی میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے امن مذاکرات کا حصہ رہا ہے۔ فضائی حملہ اس علاقے میں کیا گیا جسے شامی حکومت، ایران، روس اور ترکی نے مشترکہ طور پر جنگ سے پاک زون قرار دیا تھا۔ فیلق الشام کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ اس کے مصر میں کالعدم تنظیم اخوان المسلمون سے قریبی تعلقات ہیں اور یہ ماضی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے خلاف جنگ لڑ چکی ہے۔فیلق الشام کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امن مذاکرات میں شرکت کے باوجود اس کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مذاکرات میں شرکت کا مطلب یہ نہیں کہ روس ہمارا دوست بن گیا، شام میں مداخلت کے بعد سے ہی روس کی پالیسی قتل و غارت پر مبنی رہی ہے لہذا یہ حملہ ہمارے لیے حیران کن نہیں۔خیال رہے کہ روس نے شام کی جنگ میں 2015 میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے، روس کی مدد سے بشارالاسد کی حکومت ملک کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ شام میں 2011 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…