جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جاپان پھر جنگ کے راستے پر چل پڑا،چین کا انتباہ

datetime 5  اپریل‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی )چین نے جاپان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی ماضی کی جارحیت کے بارے میں گمراہ کن پراپیگنڈا کرنے سے باز رہے اور فوجی طاقت کے خطرناک راستے پر چلنے سے احتراز کرے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ہواچھون اینگ نے روزانہ بریفنگ میں بتایا کہ جاپان کو چاہیے کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے اور تاریخ سے سنجیدہ سبق حاصل کرے ۔ ہوا نے یہ ریمارکس جاپان کی موجودہ کابینہ کے دو ارکان کی طرف سے منگل

کو الگ الگ یہ بیان دینے کے بعد دیے تھے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں اور ایوان کی طرف سے شدید احتجاج کے باوجود تدریسی مواد کے طور پر تعلیم کے بارے میں متنازع قبل از جنگ شاہی ریسکرٹکو استعمال کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ مزید برآں نئی تعلیمی گائیڈ لائنز کے مطابق جاپانی سکولوں کو چاہیے کہ وہ طلباء کو جوڈو ،کینڈو اور جوکینڈوجیسے مارشل آرٹ کے اسباق پڑھائیں ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ جاپان کی تعلیم کے بارے میں اپنے جنگ کے زمانے کے طرز عمل کو اپنانے کی کوشش سے اس کے جنگ کا پرانا راستہ اپنانے کے بارے میں سوال اٹھائے جانے کا امکان ہے ۔ خاتون ترجمان نے کہا کہ ان حالیہ اقدامات میں جاپان میں بالعموم اور دنیا میں بالخصوص امن پسند عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔خاتون ترجمان نے کہا کہ جاپان کے فوجی جنگی جارحیت کی وجہ سے چین کے عوام اور دیگر ایشیائی ممالک کے عوام فوجی جنگی جارحیت کی وجہ سے چین کے عوام اور دیگر ایشیائی ممالک کے عوام کیلئے شدید تباہی آئی ہے ۔ترجمان نے جاپان پرزوردیا کہ وہ اپنی ماضی کی جارحیت سے واضح طور پر قطع تعلق کرے اور جاپانی عوام کو تاریخ کے غلط حصے کے ذریعے گمراہ نہ کرے تاکہ جاپان کو فوجی قوت کے خطرناک راستے پر جانے سے بچایا جا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…