جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

طالبان آگئے،آدھا افغانستان ہاتھ سے نکل گیا،امریکیوں کے ہوش اُڑ گئے،جرمن خبررساں ادارے کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  اپریل‬‮  2017 |

کابل/برلن(آئی این پی)افغانستان میں طالبان جنگجوں نے اپنے زیر تسلط صوبوں میں اثر و رسوخ کو بڑھانے کانیا منصوبہ تیار کرلیا، نئی حکمت عملی کے تحت طالبان صوبوں کے مابین متحرک رہنے والی یونٹس کی بجائے صوبائی سطح پر کمانڈز متعین کریں گے، عسکریت پسندوں کی توجہ صوبائی دارالحکومتوں پر تسلط قائم کرنے پر ہوگی۔جرمن خبررساں ادارے ’’ ڈی پی اے‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے مرکزی ترجمان

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ عسکریت پسند آنے والے دنوں میں جنوب میں ہلمند اور اورزگان، شمال میں سرِ پل اور قندوز اور مغرب میں فرح اور فریاب صوبوں میں اپنے حاصل کردہ اہداف کو مزید مستحکم کریں گے۔امریکی فورسز کے مطابق مغرب کی حمایت یافتہ کابل حکومت اس وقت ملک کے 60 فیصد سے بھی کم حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی کے تحت طالبان صوبوں کے مابین متحرک رہنے والی یونٹس کی بجائے صوبائی سطح پر کمانڈز متعین کریں گے۔ان کے بقول عسکریت پسندوں کی توجہ صوبائی دارالحکومتوں پر تسلط قائم کرنے پر ہوگی۔دریں اثنا افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے “ڈی پی اے” کو بتایا کہ افغان فورسز عسکریت پسندوں کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے باہر دھکیلنے پر توجہ دے گی۔ان کے بقول اس سلسلے میں فوج کی ایلیٹ فورسز کی استعداد کار بڑھانے سمیت مختلف اقدام کیے جائیں گے اور 2020 تک فورسز کی تعداد کو دوگنا کر دیا جائے گا۔اعلی امریکی فوجی کمانڈرز یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں طالبان جنگجوں سے لڑائی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔2014 کے اواخر میں تمام لڑاکا بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے جنگ سے تباہ حال اس ملک میں لگ بھگ 8400 امریکی فوجی اور چند ہزار نیٹو فوج موجود ہیں لیکن سلامتی کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر افغان سکیورٹی فورسز ہی نبھا رہی ہیں جنہیں طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…