جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روس کی خلیج میں دھماکہ خیز انٹری،اہم ملک نے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیدی

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

تہران /لندن (آئی این پی)ایران نے کہا ہے کہ روس شام میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایرانی فوجی مراکز استعمال کرسکتا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ روس، شام میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایرانی فوجی مراکز استعمال کرسکتا ہے۔ جواد ظریف نے کہا کہ روس اور ایران دونوں شام کے صدر بشارالاسد کے قریبی

اتحادی ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران شامی تنازع کو ان کے حق میں کرنے کے لیے انھوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔جواد ظریف نے کہا کہ ‘ایران میں روس کا کوئی فوجی مرکز نہیں ہے لیکن ہمارا اچھا تعاون ہے اور اگر روس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایرانی سہولت کی ضرورت ہوئی تو ہم اس پر معاملہ بہ معاملہ فیصلہ کریں گے۔روس نے گزشتہ سال شام میں دہشت گردوں کے خلاف حملوں کے لیے ایران کا ایک ایئربیس استعمال کیا تھا۔ واضح رہے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد پہلا موقع تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے ایرانی بیس کو استعمال کیا تھا۔ایران کے چند اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیئے جانے کے بعد جنگ عظیم دوم کے بعد پہلا موقع تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے ایرانی بیس کو استعمال کیا تھا۔ایران کے چند اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیئے جانے کے بعداچانک اس کو بند کردیا گیا تھا اور ایرانی وزیردفاع نے معاملے کو عام کرنے پر ماسکو کی سرزنش کی تھی۔خیال رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی روس کے دورے پر گزشتہ روز ماسکو پہنچے، وزیر خارجہ جواد ظریف بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کریملن میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ملاقات میں شام سمیت خطے کے مسائل پر گفتگو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…