جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پھر طالبان کی حکومت،اہم ترین شہر پر قبضہ،افغان فورسز کی تصدیق

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی)طالبان نے افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر سنگین پر ایک سال سے مسلسل جاری جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ،افغان فورسز کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت سنگین سے پسپائی اختیار کر لی ،ادھر شمالی صوبہ قندوز میں ایک پولیس افسر نے اپنے 9 ساتھیوں کو سوتے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا،طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،دوسری جانب مشرقی صوبہ ننگرہار میں فضائی

کاروائیوں میں داعش کے 3کمانڈروں سمیت 32 اور طالبان کے 13جنگجو ہلاک ہوگئے ۔جمعرات کو افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر سنگین پرطالبان نے ایک سال سے مسلسل جاری جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔افغان فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت سنگین سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ہلمند کے گورنر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیس کا ضلعی دفتر اور گورنر کا ہیڈ کواٹر طالبان کے ہاتھوں میں ہیں۔افغانستان میں برطانیہ فوج کی موجودگی کے دوران برطانوی فوج کو ہونے والے مجموعی جانی نقصان کا ایک چوتھائی سنگین کے محاذ پر ہوا تھا۔حالیہ لڑائی میں سینکڑوں افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ رات سنگین پر قبضہ کر لیا تھا۔افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے حکم پر فوجیوں کو سنگین سے نکل جانے کا کہا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بیرونی فوجیوں علاقے پر شدید بمباری کر رہی ہیں۔سنگین میں کجاکی ڈیم کی سڑک پر برطانوی اور امریکی فوجیوں کی سنہ دو ہزار تیرہ سے قبل شدید لڑائیاں ہوتی رہی ہیں جن میں انھیں شدید جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ ادھر شمالی صوبے قندوز میں ایک پولیس افسر نے اپنے 9 ساتھی اہلکاروں کو جو سو رہے تھے، گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک سکیورٹی

پوسٹ پر ہونے والی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔مشرقی صوبہ ننگرہار میں فضائی حملے میں داعش کے 3کمانڈروں سمیت 32شدت پسند ہلاک ہوگئے ۔صوبائی پولیس کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی نے بتایا ہے کہ فضائی کاروائی افغان نیشنل سیکورٹی فورسز نے ضلع آچن ،کوٹ اور ہیسکا مینا کے مختلف علاقوں میں کی۔ایک اور رپورٹ کے مطابق ضلع کھوگیانی میں افغان ایئر فورس کی کاروائی میں 13طالبان شدت پسند مارے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…