جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پھر طالبان کی حکومت،اہم ترین شہر پر قبضہ،افغان فورسز کی تصدیق

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی)طالبان نے افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر سنگین پر ایک سال سے مسلسل جاری جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ،افغان فورسز کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت سنگین سے پسپائی اختیار کر لی ،ادھر شمالی صوبہ قندوز میں ایک پولیس افسر نے اپنے 9 ساتھیوں کو سوتے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا،طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،دوسری جانب مشرقی صوبہ ننگرہار میں فضائی

کاروائیوں میں داعش کے 3کمانڈروں سمیت 32 اور طالبان کے 13جنگجو ہلاک ہوگئے ۔جمعرات کو افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر سنگین پرطالبان نے ایک سال سے مسلسل جاری جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔افغان فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت سنگین سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ہلمند کے گورنر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیس کا ضلعی دفتر اور گورنر کا ہیڈ کواٹر طالبان کے ہاتھوں میں ہیں۔افغانستان میں برطانیہ فوج کی موجودگی کے دوران برطانوی فوج کو ہونے والے مجموعی جانی نقصان کا ایک چوتھائی سنگین کے محاذ پر ہوا تھا۔حالیہ لڑائی میں سینکڑوں افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ رات سنگین پر قبضہ کر لیا تھا۔افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے حکم پر فوجیوں کو سنگین سے نکل جانے کا کہا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بیرونی فوجیوں علاقے پر شدید بمباری کر رہی ہیں۔سنگین میں کجاکی ڈیم کی سڑک پر برطانوی اور امریکی فوجیوں کی سنہ دو ہزار تیرہ سے قبل شدید لڑائیاں ہوتی رہی ہیں جن میں انھیں شدید جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ ادھر شمالی صوبے قندوز میں ایک پولیس افسر نے اپنے 9 ساتھی اہلکاروں کو جو سو رہے تھے، گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک سکیورٹی

پوسٹ پر ہونے والی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔مشرقی صوبہ ننگرہار میں فضائی حملے میں داعش کے 3کمانڈروں سمیت 32شدت پسند ہلاک ہوگئے ۔صوبائی پولیس کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی نے بتایا ہے کہ فضائی کاروائی افغان نیشنل سیکورٹی فورسز نے ضلع آچن ،کوٹ اور ہیسکا مینا کے مختلف علاقوں میں کی۔ایک اور رپورٹ کے مطابق ضلع کھوگیانی میں افغان ایئر فورس کی کاروائی میں 13طالبان شدت پسند مارے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…