جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

آئی پیڈ استعمال کرنا حرام ہے ۔۔ سعودی علما میدان میں آگئے ۔۔ حلال حرام کا چکر کیوں پڑا ؟ وجہ بھی سامنے آگئی

datetime 28  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مکہ مکرمہ(این این آئی)سعودی عرب میں آئمہ مساجد اور خطباء اپنے جمعے کے خطبات کے وقت جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں اور ان میں سے بعض جمعہ کا خطبہ پڑھنے کے لیے اسمارٹ ڈیوائسز آئی پیڈز وغیرہ کا استعمال کررہے ہیں۔بعض مذہبی اسکالروں نے اس رجحان پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ ائمہ اور خطباء کو خطبہ دیتے وقت آئی پیڈز کا سہارا نہیں لینا چاہیے اور اس کے بجائے وہ کاغذ پر لکھے خطبہ کو دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں،تاہم مذہبی اسکالرزاب حکومتی فیصلے کے منتظر ہیں کہ آیا اس پر حکومت پابندی عائد کرتی ہے کہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نجران میں اْم ابراہیم الفارس مسجد کے امام شیخ خالد الفارس کا کہنا تھا کہ جمعہ کا خطبہ دیتے وقت کاغذ کے بجائے برقی آلات (ڈیوائسز) کا استعمال ہرگز بھی مناسب نہیں ہے اور اس کی تائید نہیں کی جاسکتی ہے۔انھوں نے اس حوالے سے یہ نکتہ بیان کیا کہ عبادت گزار مساجد میں روحانی بالیدگی اور ترقی کے لیے آتے ہیں۔اس لیے ان کے احساسات کا احترام کیا جانا چاہیے۔امام کا ایک آئی پیڈ کو دیکھ کر خطبہ پڑھنا بے توقیری کی علامت ہے۔مسجد الزبیر بن العوام کے امام شیخ سعید الجلیل کا کہنا تھا کہ ایک امام کی سب سے بڑی خاصیت اور صلاحیت اپنے خطبات کے ذریعے عبادت گزاروں کے قلوب واذہان پر اثرانداز ہونا ہے اور ان خطبات کا سامعین پر اثر ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ امام کے لیے سچ کا لمحہ وہی ہوتا ہے جب وہ منبر پر کھڑا ہوتا ہے۔ایک امام کی آواز کا زیر وبم جتنا قدرتی ہوگا،اس کے اثرات بھی اسی اعتبار سے زیادہ مضبوط ہوں گے۔کاغذ پر لکھے خطبے کو پڑھنا تو ٹھیک ہے لیکن ٹیکنالوجی کو مسجد میں لانے سے گڑ بڑ پیدا ہو سکتی ہے لیکن نجران میں اسلامی امور کے ڈائریکٹر شیخ احمد طالبی آئی پیڈز استعمال کرنے کے حق میں ہیں۔انھوں نے بتایا کہ وزارت نے ائمہ کو خطبات دیتے وقت آئی پیڈز کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…