جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

بڑا بریک تھرو،طالبان نائب امیرسراج الدین حقانی نے اہم پیشکش کردی

datetime 15  جون‬‮  2016 |

کابل(این این آئی) طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی نے کہاہے کہ شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔عالمی طاقتوں نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی۔ ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے، حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو بدنام کرنے کے لئے ہمیں طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں،افغان میڈیا کے مطابق اپنے آڈیو پیغام میں سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ اگر شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کئے جائیں تو طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہیں، طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کا اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی۔امریکا کی جانب سے افغانستان میں ڈرون حملے بڑھانے کی پالیسی کے حوالے سے سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی یہ پالیسی بھی اسی طرح ناکام ہو گی جس طرح گزشتہ 15 برس سے ان کی پالیسیاں ناکام ہو رہی ہیں، ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو بدنام کرنے کے لئے ہمیں طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…