جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پورپ پہنچنے والے لاوارث بچوں کی تعداد رواں برس دوگنا سے بھی زیادہ کر چکی ہے، یونیسف

datetime 15  جون‬‮  2016 |

جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ بحیرہ روم کا پْر خطر سفر کر کے پورپ پہنچنے والے لاوارث بچوں کی تعداد رواں برس دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے اور ایسے بچوں کو جنسی زیادتی اورجسم فروشی پر بھی مجبور کیا جا رہا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے نے اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے حوالے سے بتایا ہے کہ اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر بحیرہ روم سے یورپ آنے والے لاوارث بچوں کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زائد کا اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے امدادی ادارے نے کہا ہے کہ وہ یونان میں محصور 22 ہزار مہاجر بچوں کی بہبود کے لیے اپنے امدادی کاموں میں تیزی لائے گی۔
ایک تازہ رپورٹ میں یونیسیف نے مہاجرین کے بحران میں بچوں کی اس حالت زار پر انتہائی تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس المیے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ سفر کے ہر قدم میں خطرات نامی اس رپورٹ میں یونیسیف نے لکھا ہے کہ اٹلی پہنچنے والے ہر دس بچوں میں سے نو بچے اکیلے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کم ازکم سات ہزار بچے اس سمندری سفر کے بعد اٹلی پہنچ چکے ہیں۔اس رپورٹ کے اجراء کے موقع پر سارہ کرو نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یورپ پہنچنے والے لاوارث بچوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حقائق جاننے کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے کے حل میں مدد مل سکے۔ رپورٹ کے مطابق لاوارث مہاجر بچوں کا استحصال کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے بچے انسانوں کے اسمگلروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور ہر اس کام پر مجبور ہو سکتے ہیں، جو انہیں کرنے کو کہا جائے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جو بچہ بھی اطالوی جزیروں پر پہنچا ہے، اس کے پاس سنانے کو انتہائی المناک اور لرزہ طاری کر دینے والی کہانیاں ہیں۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں، انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسی کئی لڑکیاں بھی ہیں، جو طویل سفر کے بعد جب اٹلی پہنچیں تو وہ حاملہ تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…