جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

بنگلہ دیش،حسینہ واجدنے انتہا کردی

datetime 14  جون‬‮  2016 |

ڈحاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش پولیس نے بتایا ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے آٹھ ہزار افرد کو گرفتار جبکہ اب تک اس آپریشن میں پانچ کو ہلاک کیاگیا ہے ،دوسری جانب ملکی اپوزیشن نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ حکومت یہ کارروائیاں سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپوزیشن کے مطابق نام تو عسکریت پسندوں کا لیا جا رہا ہے کہ حقیقت میں اپوزیشن کے سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس ملک میں یہ اقدام اقلیتوں اور سیکولر کارکنوں کے پے در پے قتل کے واقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔پولیس کے ایک ترجمان قمر الاحسان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے مزید تین ہزار دو سو پینتالیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر گرفتار کیے جانے والے مشتبہ عسکریت پسندوں کی تعداد آٹھ ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل شاہد الرحمان کا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ملک بھر میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے تیسرے دن ہم نے تین ہزار دو سو پینتالیس افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان میں چونتیس اعلیٰ شدت پسند بھی شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا یہ جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں، ان میں سے صرف ایک حصہ ایسا ہے، جس کا تعلق عسکری اور شدت پسند گروپوں سے ہے۔ باقی جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کے خلاف وارنٹ جاری ہو چکے تھے اور یہ لوگ منشیات، اسلحہ اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں،بنگلہ دیش میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں حالیہ چند دنوں میں پانچ مشتبہ عسکریت پسند مارے بھی گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش کے اراکین بھی شامل ہیں۔دوسری جانب ملکی اپوزیشن نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ حکومت یہ کارروائیاں سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپوزیشن کے مطابق نام تو عسکریت پسندوں کا لیا جا رہا ہے کہ حقیقت میں اپوزیشن کے سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…