جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

عمر متین نے ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملہ کیوں کیا؟ اوباما نے وضاحت کردی

datetime 14  جون‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے ملزم عمر متین کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے ملزم کا داعش سے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر ہونے والے حملے کے بعد امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمس کومی نے امریکی صدر باراک اوباما کو حملے سے متعلق بریفنگ دی جس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہاکہ اورلینڈو کے نائٹ کلب میں فائرنگ کرنے والا عمر متین انٹرنیٹ پر دستیاب انتہا پسندانہ معلومات سے متاثر ہوا تھا تاہم اس مرحلے پر ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ پتا چلے کہ اسے باہر سے ہدایات جاری کی جارہی تھیں یا اس کا تعلق داعش سے تھا البتہ حملہ آور نے آخری منٹ میں پولیس کو فون کر کے بظاہر داعش سے تعلق کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر نے واقعے کو ملک میں پیدا شدہ انتہا پسندی کی مثال قراردیا اور کہا کہ امریکی حکام ایک عرصے سے اس کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں تاہم یہ حملہ بھی گذشتہ سال کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے جیسا ہی ہے، البتہ اورلینڈو حملے سے متعلق مکمل تفصیل نہیں جانتے۔دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر جیمس کومی کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ 29 سالہ افغان نڑاد امریکی شہری عمر متین نے نہ صرف داعش سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا بلکہ وہ بوسٹن میرتھن حملے میں ملوث بھائیوں کا ہمدرد بھی تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمر متین انتہا کا شدت پسند تھا جس نے مئی 2013 میں القاعدہ اور حزب اللہ کی حمایت کا اظہار کیا تاہم جب مزید تفتیش کی تو اس نے کہا کہ اس نے غصے میں آکر اس قسم کا بیان دیا کیوں کہ اس کے ساتھی مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے تعصب کا نشانہ بناتے ہیں۔واضح رہے کہ ایف بی آئی نے 2012 اور 2013 میں عمر متین سے پوچھ گچھ کی تھی اور کرمنل ریکارڈ نہ ہونے پر اسے کلئیر قرار دے دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…