اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

11 ترک نژاد جرمن ارکان پارلیمنٹ کو’’حراست‘‘میں لے لیاگیا

datetime 12  جون‬‮  2016 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں ترک نژاد 11 ارکان پارلیمان کو پولیس کی حفاظتی تحویل میں لے لیاگیا،ان ارکان پارلیمان کو 1915 میں سلطنت عثمانیہ میں آرمینی باشندوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی حمایت کے بعد قتل کی دھمکیاں ملی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی کی وزارت خارجہ نے ترک نڑاد ارکان پارلیمان کو ترکی کا سفر کرنے کے خلاف تنبیہ کی اور کہا کہ وہاں ان کی سکیورٹی کی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔جرمن پارلیمان کے اس اقدام سے ترک حکومت نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے جو آرمینی باشندوں کے قتل کو قتل عام نہیں سمجھتی۔11 ترک نڑاد جرمن ارکان پارلیمان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا اور انھیں ترک حکومت اور جرمنی میں قیام پذیر ترک باشندوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انقرہ کے میئر نے ان 11 ارکان پارلیمان کی تصویریں ٹوئٹر پر پوسٹ کی اور لکھا کہ انھوں نے ہماری پیٹھ کر چھرا گھونپا ہے۔جرمن میڈیا کے مطابق اس ٹویٹ کو بہت سارے ترک شہریوں نے ری ٹویٹ کیا، جن میں سے کچھ دھمکیاں دینے والے بھی شامل ہیں۔ترکی کے وکلا کے ایک گروہ نے ان ارکان پارلیمان کے خلاف ’ترک ریاست اور ترکیت کی توہین‘ کی درخواست دائر کی ہے۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جرمنی کی پارلیمان میں آرمینی ’قتل عام‘ کی قرارداد کی منظوری کے بعد ترکی نے برلن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔آرمینیا کا دعویٰ ہے کہ 1915 میں 15 لاکھ آرمینی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت کم تھی اور اسے نسل کشی نہیں قرار دیا جا سکتا۔فرانس اور روس سمیت 20 سے زیادہ ممالک 1915 میں ہونے والی ان ہلاکتوں کو نسل کشی مانتے ہیں۔ترکی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران آرمینی باشندوں کی ہلاکتیں کسی منظم سازش کا حصہ تھیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت ترک باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…