جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

نیوکلیئرسپلائرز گروپ کی رکنیت ،امریکہ نے پاکستان کو باضابطہ جواب دیدیا

datetime 12  جون‬‮  2016 |

واشنگٹن(آئی این پی )امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ پاکستان نیوکلیئرسپلائرز گروپ (این ایس جی) کی رکنیت کے لیے اپنا کیس خود 48 رکنی این ایس جی گروپ کے سامنے پیش کرے، پاکستان اور بھارت سے تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں، پاکستان اور بھارت کو سیکیورٹی معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیئے،طالبان کو جلد احساس ہو جائے گا کہ افغانستان کو مفاہمت کی ضرورت ہے، افغانستان میں امریکی افواج کو مزید حملوں کا اختیار دیا گیا ، امریکی افواج کی بنیادی ذمہ داری افغان فوجوں کو ٹریننگ دینا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کا واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں سے تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں، پاکستان اور بھارت کو بھی ایک دوسرے سے سیکیورٹی معاملات میں تعاون کرنا چاہیئے اور اس عمل میں افغانستان کو بھی شامل کیا جائے، تینوں ممالک کے آپسی تعاون سے امریکا کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ مارک ٹونر کا کہنا تھا افغان حکومت طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، طالبان کو بھی مفاہمتی عمل کا حصہ بننا چاہیئے، امید ہے طالبان کو جلد احساس ہو جائے گا کہ افغانستان کو مفاہمت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کو مزید حملوں کا اختیار دیا گیا ہے تاہم امریکی افواج کی بنیادی ذمہ داری افغان فوجوں کو ٹریننگ دینا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے پاکستان پر زور دیا کہ پاکستان این ایس جی گروپ میں شمولیت کے لیے اپنی درخواست خود 48 رکنی گروپ کے سامنے پیش کرے۔ اس سوال کے جواب میں کہ امریکا، پاکستان کی این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے میں مدد کیوں نہیں کررہا، مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی این ایس جی میں شمولیت کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا جاتا ہے، کسی ایک ملک کی حمایت سے پاکستان کو این ایس جی کی رکنیت نہیں مل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بھی این ایس جی گروپ میں شامل ہونا چاہتا ہے، اگر پاکستان بھی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والے گروپ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو پاکستان کو 48 رکنی گروپ کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…