تہران (نیوز ڈیسک)ایران میں عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجئی نے اعلان کیا ہے کہ تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں حراست میں لیے گئے تمام 154 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایجئی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بعض ملزمان مذہبی شخصیات سے متعلق خصوصی عدالت میں ہیں اور ان کی رہائی کے حوالے سے میرے پاس ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہے۔ جہاں تک بقیہ ملزمان کا تعلق ہے تو دو افراد کے سوا تمام افراد کو مکمل پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔تہران کے اٹارنی جنرل نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ دارالحکومت میں سعودی سفارت خانے پر دھاوے میں ملوث 154 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم ان افراد کی شناخت اور ان کی پشت پر موجود عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ادھر رواں ماہ کے آغاز میں ایرانی ویب سائٹوں نے حسن کرد میہن کی رہائی کی خبر جاری کی تھی۔ میہن شدت پسند مذہبی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپوں کا سربراہ بھی ہے۔ ایرانی حکام نے میہن پر سعودی سفارت خانے پر حملے کے “ماسٹر مائنڈ” ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
ایران کا سعودی سفارتخانے پر حملے میں ملوث تمام 154افرادکو رہا کرنے کا اعلان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
محمد عباس کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ بابر اعظم نے وجہ بتادی
-
اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی، ایس ایچ او سمیت تھانے کا پورا عملہ معطل
-
پولیس افسر کی تھانے میں لڑکی سے زیادتی ‘پورا تھانہ معطل، ایس ایچ او سمیت 2 سب انسپکٹروں اور 8 اے ای...



















































