لندن کے بعد اب کینبرا نے بھی آسٹریلوی خواتین کی جانب سے داعش کے دہشت گردوں کے لئے جنسی خدمات پیش کرنے پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ نے آسٹریلیا سے خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے عراق اور شام کا ر±خ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ خواتین کا شام اور عراق جاکر بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کو جنسی خدمات پیش کرنا بقول ان کے کوئی رومانٹک، ایڈونچر یا رومانوی مہم جوئی نہیں ہے۔ ا±ن کے بقول یہ خواتین کسی شرعی اور قانونی ضابطے کے بغیر داعش کے دہشت گردوں کی دلہن یا ’جہادی دلہن‘ بننے کی غرض سے وہاں جا رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کم از کم 110 آسٹریلوی شہری مشرق و±سطیٰ کا ر±خ کر چکے ہیں جس کا مقصد دہشت گردوں کے شانہ بشانہ لڑنا ہے۔ آسٹریلیا کے سکیورٹی حکام کے مطابق داعش جیسے سفاک گروہ میں تیس تا چالیس خواتین بھی شامل ہیں یا پھر وہ آسٹریلیا میں ہی اس گروپ کی مدد کر رہی ہیں۔ یورپی ملکوں کی جانب سے داعش گروہ سے وابستہ دہشت گردوں میں اس ملک کے شہریوں خصوصا “گروپ سیکس” کے مقصد سے جانے والی خواتین کی بابت تشویش کا اظہار ایک ایسے وقت کیا جارہا ہے کہ مغربی ممالک شام اور عراق میں سرگرم تکفیر دہشت گردوں کی علی اعلان مدد و حمایت کرتے رہے ہیں۔