یمن کے دارالحکومت صنعا میں قابض حوثی شیعہ باغیوں نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ”دھمکیوں” میں آنے والے نہیں۔ یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کے مطابق حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ ”یمنی عوام دھمکیوں کے خوف سے اقتدار نہیں چھوڑیں گے”۔وہ خود کو تمام یمنی عوام کا نمائندہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ ملک کے جنوب میں آباد عوام ان کی شدید مخالفت کررہے ہیں اور دارالحکومت میں بھی ان کے قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مسٹر عبدالسلام کا کہنا ہے کہ ”یمنی حق خود ارادیت کے ایک عمل سے گزر رہے ہیں تاکہ وہ غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوسکیں”۔ حوثی باغیوں کے ترجمان نے یمن کے ہمسایہ خلیجی ممالک کے عالمی برادری سے مطالبے کے ردعمل میں یہ بیان جاری کیا ہے۔خلیجی عرب ممالک نے ہفتے کے روز عالمی برادری پر زوردیا تھا کہ وہ حوثیوں کے صنعا پر قبضے کو ختم کرانے کے لیے مداخلت کرے۔ ادھر نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج اتوار کو ایک اجلاس ہورہا ہے۔سفارت کاروں کے مطابق اجلاس میں ایک قرارداد کی منظوری متوقع ہے جس میں حوثیوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں،اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات شروع کریں اور زیرحراست حکومتی عہدے داروں کو رہا کریں۔ مجوزہ قرارداد کے مسودے میں حوثیوں سے کہا گیا ہے کہ ”وہ فوری اور غیر مشروط طور پر اقدام کریں اور صنعا میں سرکاری اداروں سے اپنی فورسز کو ہٹا لیں،اقتدار اور سکیورٹی اداروں سے دستبردار ہوجائیں”۔ صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں کے حکومت پر قبضے اور امن وامان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر گذشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکا ،فرانس ،جرمنی ،برطانیہ ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے اپنے سفارت خانے بند کردیے ہیں اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ امریکا نے تو اپنا سفارت خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا ہے جبکہ فرانس ،جرمنی اور برطانیہ نے عارضی طور پر اپنے سفارت خانوں کو بند کیا ہے۔انھوں نے یہ اقدام حوثی باغیوں کی جانب سے 6 فروری کو اقتدار پر قبضے کے بعد کیا ہے۔ حوثی ملیشیا نے ان مغربی ممالک کی جانب سے سفارت خانوں کی بندش کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام یمنی عوام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے۔ترجمان عبدالسلام کا کہنا تھا کہ یہ سفارت خانے اپنے اپنے ممالک کے مفادات کے لیے ہی کام کررہے تھے اور یمنی عوام کے مفاد کے لیے تو کام نہیں کررہے تھے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)
-
پرائیویٹ سکولوں کیخلاف کریک ڈائون کا فیصلہ
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا
-
وفاقی حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے اہم فیصلہ
-
موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
خاتون جیلر نے 14 سال قید کی سزا پانے والے قیدی کو اپنا دولہا بنا لیا
-
لاپتہ ہوٹل مالک کو کھانے والا 15 فٹ لمبا مگرمچھ دریا سے نکال کر ہلاک کر دیا گیا
-
نواز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا
-
ایپل کی پالیسی! پاکستان میں آئی فون صارفین کے لئے اہم خبر آگئی
-
سرکاری ملازمین کیلیے عید الاضحیٰ سے قبل بڑی خوشخبری
-
تیزہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
معرکہ حق، چین نے پاکستان کی فضائیہ کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کردی
-
لاہور،رکشہ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاکر 2لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
-
شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی! غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی نئی فہرست سامنے آگئی



















































