اسلا م آبا د (نیوز ڈیسک) اگر آپ رات کے دیر گئے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے عادی ہیں، تو یہ عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔یہ بات برطانیہ میں کی جانے والی ایک تازہ ترین تحقیق میں سامنے آئی ہے۔برسٹل یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق، وہ افراد جو رات کے وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان میں ڈپریشن (افسردگی) اور انزائٹی (اضطراب) کی علامات پائے جانے کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بیشتر مطالعات میں صرف سوشل میڈیا کے استعمال کے دورانیے کو دماغی صحت سے جوڑا گیا، مگر ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سوشل میڈیا کے استعمال کا وقت بھی ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں۔اس مقصد کے لیے محققین نے 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچوں پر جاری ایک طویل مدتی مطالعے کا ڈیٹا استعمال کیا۔ اس تحقیق میں 310 افراد شامل کیے گئے جن سے پوچھا گیا کہ وہ دن کے کن اوقات میں ایکس (سابق ٹوئٹر) استعمال کرتے ہیں، اور اس کے بعد ان سے دماغی صحت سے متعلق سوالنامے پُر کروائے گئے۔ماہرین نے 2008 سے 2023 کے درمیان کی گئی 18 ہزار سے زائد پوسٹس اور ری پوسٹس کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ رات 11 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان ایکس پر سرگرم رہتے ہیں، ان کی دماغی حالت دن میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، اگرچہ ڈپریشن اور انزائٹی سے تعلق اتنا مضبوط نہیں پایا گیا، تاہم دماغی صحت متاثر ہونے کے شواہد واضح اور قابل اعتماد ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رات گئے سوشل میڈیا کا استعمال نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔ اس دوران مسلسل پوسٹس اور میسجنگ دماغ کو زیادہ متحرک رکھتی ہے، جبکہ اسمارٹ فون کی نیلی روشنی نیند پیدا کرنے والے ہارمونز کی تیاری میں رکاوٹ بنتی ہے۔ان کے مطابق، یہ تمام عوامل نیند کے حصول کو مشکل بناتے ہیں، یا پھر نیند کا معیار کمزور کر دیتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر دماغی صحت پر پڑتا ہے۔تحقیق کے ماہرین نے مشورہ دیا کہ اگر آپ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر رکھنا چاہتے ہیں، تو رات گئے سوشل میڈیا کے استعمال سے گریز کریں اور بھرپور نیند لینے کو ترجیح دیں۔



















































