اتوار‬‮ ، 18 اکتوبر‬‮ 2026 

موٹاپا کم کریں ورنہ یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے؟

datetime 27  فروری‬‮  2016 |

لندن(نیوزڈیسک) موٹاپا ایک مستقل بیماری ہے جو کئی دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موٹا پا انسان کی یادداشت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ موٹاپا خواتین، مرد اور بچوں سبھی کے لیے خطرناک ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنے بچوں کے موٹاپے کو چھپاتے ہیں جب کہ موٹاپا انسانی یادداشت پر منفی اثرات بھی ڈالتا ہے لیکن اس پر تحقیق کی ضرورت تھی۔تحقیق کے لیے 50 افراد کا انتخاب کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ وزن کی زیادتی کا شکار لوگوں میں چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے میں یا پھر ماضی کے واقعات کو صحیح طرح دہرانے میں دشواری ہوتی ہے۔ایکسپیری مینٹل سائیکالوجی کے سہ ماہی جنرل میں چھپنے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اسی کمزور یادداشت کی وجہ سے ان موٹے افراد کو یہ خیال ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے آخری بار کب کھانا کھایا تھا اور وہ مزید کھانا کھا کر خوراک کی ذیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس تحقیق سے قبل چوہوں پر اس کا تجریہ کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ یادداشت کے امتحان میں موٹے تازے چوہوں کی کارکردگی دبلے چوہوں کے مقابلے میں قدرے خراب تھی جب کہ انسانوں پر کیے گئے تجربات میں بھی ملے جلے نتائج سامنے آئے۔حالیہ تجربات میں چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے پر غور کیا گیا جس میں لوگوں سے اپنے دماغ میں ویڈیو ٹیپ چلانے کو کہا گیا، جس کے بارے میں سوچنے سے ان کو کافی کی مہک آتی ہے یا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ اس تجربے میں 18سال سے لے کر 51 سال تک کے انتہائی موٹے 50 افراد نے حصہ لیا، جس میں ان کو کمپیوٹر اسکرین پر چیزوں کو مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر ’چھپانے‘ کو کہا گیا اور بعد میں ان سے ان کے بارے میں سوالات کیے گئے جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ موٹے لوگوں نے دبلے لوگوں کے مقابلے میں 15 فیصد کم نمبر حاصل کیے۔کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر لوسی چیک کا کہنا ہے کہ اس سے جو چیز واضح طور پر سامنے آئی وہ یہ ہے کہ زیادہ بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) رکھنے والیافراد میں چیزوں کو واضح طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے دماغ میں کچھ نہیں ہوتایا پھر ان کو نسیان کا مرض ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خرابی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے آخری بار کھانا کب کھایا جس کی وجہ سے وہ زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ لوگ جو ٹی وی دیکھتے ہوئے ڈنر کرتے ہیں زیادہ کھانا کھاجاتے ہیں اور ان کو جلد ہی دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے اور جن لوگوں کو بھولنے یا نسیان کی بیماری ہوتی ہے، وہ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد کھانا کھاتے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…