لندن(نیوزڈیسک) موٹاپا ایک مستقل بیماری ہے جو کئی دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موٹا پا انسان کی یادداشت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ موٹاپا خواتین، مرد اور بچوں سبھی کے لیے خطرناک ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنے بچوں کے موٹاپے کو چھپاتے ہیں جب کہ موٹاپا انسانی یادداشت پر منفی اثرات بھی ڈالتا ہے لیکن اس پر تحقیق کی ضرورت تھی۔تحقیق کے لیے 50 افراد کا انتخاب کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ وزن کی زیادتی کا شکار لوگوں میں چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے میں یا پھر ماضی کے واقعات کو صحیح طرح دہرانے میں دشواری ہوتی ہے۔ایکسپیری مینٹل سائیکالوجی کے سہ ماہی جنرل میں چھپنے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اسی کمزور یادداشت کی وجہ سے ان موٹے افراد کو یہ خیال ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے آخری بار کب کھانا کھایا تھا اور وہ مزید کھانا کھا کر خوراک کی ذیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس تحقیق سے قبل چوہوں پر اس کا تجریہ کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ یادداشت کے امتحان میں موٹے تازے چوہوں کی کارکردگی دبلے چوہوں کے مقابلے میں قدرے خراب تھی جب کہ انسانوں پر کیے گئے تجربات میں بھی ملے جلے نتائج سامنے آئے۔حالیہ تجربات میں چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے پر غور کیا گیا جس میں لوگوں سے اپنے دماغ میں ویڈیو ٹیپ چلانے کو کہا گیا، جس کے بارے میں سوچنے سے ان کو کافی کی مہک آتی ہے یا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ اس تجربے میں 18سال سے لے کر 51 سال تک کے انتہائی موٹے 50 افراد نے حصہ لیا، جس میں ان کو کمپیوٹر اسکرین پر چیزوں کو مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر ’چھپانے‘ کو کہا گیا اور بعد میں ان سے ان کے بارے میں سوالات کیے گئے جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ موٹے لوگوں نے دبلے لوگوں کے مقابلے میں 15 فیصد کم نمبر حاصل کیے۔کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر لوسی چیک کا کہنا ہے کہ اس سے جو چیز واضح طور پر سامنے آئی وہ یہ ہے کہ زیادہ بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) رکھنے والیافراد میں چیزوں کو واضح طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے دماغ میں کچھ نہیں ہوتایا پھر ان کو نسیان کا مرض ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خرابی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے آخری بار کھانا کب کھایا جس کی وجہ سے وہ زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ لوگ جو ٹی وی دیکھتے ہوئے ڈنر کرتے ہیں زیادہ کھانا کھاجاتے ہیں اور ان کو جلد ہی دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے اور جن لوگوں کو بھولنے یا نسیان کی بیماری ہوتی ہے، وہ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد کھانا کھاتے رہتے ہیں۔
موٹاپا کم کریں ورنہ یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
’’شیطان مر گیا‘‘: نانا پاٹیکر کے بیٹے کا تنوشری دتہ کے متنازع بیان پر ردعمل آگیا
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
ای پاسپورٹ کا اجرا ! پرانے پاسپورٹ رکھنے والے کیا کریں گے؟
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
لندن میں دو نقاب پوشوں نے نواز شریف کی گاڑی کے شیشے توڑدیے
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے
-
باپ نے 4بیٹیوں کو زہریلا مشروب پلا کر خود بھی پی لیا
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ



















































