اسلام آباد(نیوزڈیسک )موجودہ دور میں ہم ٹیکنالوجی کا اپنی زندگیوں میں بے دریغ استعمال اپنے بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی نوزائیدہ نسلوں کو ہر ممکن ا?سائش کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی میں عبور حاصل کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں،لیکن ترقی یافتہ ممالک میں جدید تحقیق کی روشنی میں یہ نظریہ یکسر مختلف دکھائی دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کے منفی پہلو بھی اجاگر کرتا ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق کمپیوٹر کا استعمال اور سرچ انجن پر زیادہ انحصار بچوں اور بڑوں میں کمزور حافظے کا باعث بن رہا ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کی ماریہ وِمبر کہتی ہیں کہ معلومات کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار کا رجحان ’طویل مدتی حافظے کی نشوونما میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے‘۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی،ا سپین، بلجیم، نیدرلینڈ اور لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار بالغ افراد پر کی جانے والی تحقیق میں سامنے ا?یاہے کہ ان میں سے ایک تہائی افراد کو معلومات دوبارہ یاد کرنے کے لیے کمپیوٹر کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
برطانیہ میں کیے جانے والے سروے کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق 45 فیصد افراد کودس سال کی عمر میں اپنے گھر کے پرانے ٹیلی فون نمبرز یاد تھے۔ 29 فیصد کو اپنے بچوں اور43 فیصدکو اپنے دفاتر کے ٹیلی فون نمبر یاد تھے۔
برطانیہ میں 51 فیصد افراد کواور اٹلی میں تقریباً 80 فیصد افراد کو اپنے ساتھی کے ٹیلی فون نمبر یاد تھے۔سائبر سیکورٹی کی کمپنی کیسپرسکی لیب کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لوگ کمپیوٹر والے آلات اپنے ’اضافی‘ دماغ کے طور پر استعمال کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
بچوں پر کمپیوٹر کے اثرات
حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹرز بچوں کی ذہنی صحت اور علمی قابلیت میں اضافے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بچوں کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم او ای سی ڈی کی جانب سے ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے ممالک جہاں کلاس رومز میں کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں وہاں تین چوتھائی بچوں میں ذہانت یا امتحانی کارکردگی کے اعتبار سے کوئی مثبت فرق دکھائی نہیں دیا۔اس کے برعکس ایشیا کے ایسے اسکول جہاں عام افراد بڑی تعداد میں اسمارٹ فونز اور کمپوٹرز کا استعمال کرتے ہیں، وہاں کلاس رومز میں بچوں میں ان کا استعمال انتہائی کم دکھائی دیا۔ جنوبی کوریا میں بچے اوسطا نو منٹ روزلنہ جبکہ ہانگ کانگ میں گیارہ منٹ روزانہ کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔ ا?سٹریلیا میں یہ دورانیہ 58 منٹ، یونان میں 42 منٹ اور سوئیڈن میں 39 منٹ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے اسکول جہاں کلاس رومز میں کمپیوٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں طلبہ کی کارکردگی پر اثرات ملے جلے ہیں۔ ایسے طلبہ جو اسکولوں میں تواتر کے ساتھ کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہیں وہ کئی معاملات میں بڑی غلطیاں کرتے نظر ا?تے ہیں۔
ٹیکنالوجی کا استعمال، ذہانت اور حافظے میں رکاوٹ کا باعث
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
پاکستان ایران سے ناراض ہو گیا ہےیہ ناراضگی اس خط سے شروع ہوئی جو دینے کیلئے۔۔۔جاوید چوہدری کا حیران...
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
سندھ ہائیکورٹ نے رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کیس کا فیصلہ سنا دیا
-
اداکارہ ہما سلیم کے معروف کرکٹر پر سنگین الزامات، قانونی کارروائی کا اعلان
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی...
-
فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا
-
عمرہ نظام میں بڑی اصلاحات، نئے رولز نافذ کر دیے گئے
-
نئی آٹو پالیسی موخر، حکومت کا موجودہ آٹو پالیسی میں ایک سال توسیع کا فیصلہ



















































