جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

ٹیکنالوجی کا استعمال، ذہانت اور حافظے میں رکاوٹ کا باعث

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )موجودہ دور میں ہم ٹیکنالوجی کا اپنی زندگیوں میں بے دریغ استعمال اپنے بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی نوزائیدہ نسلوں کو ہر ممکن ا?سائش کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی میں عبور حاصل کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں،لیکن ترقی یافتہ ممالک میں جدید تحقیق کی روشنی میں یہ نظریہ یکسر مختلف دکھائی دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کے منفی پہلو بھی اجاگر کرتا ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق کمپیوٹر کا استعمال اور سرچ انجن پر زیادہ انحصار بچوں اور بڑوں میں کمزور حافظے کا باعث بن رہا ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کی ماریہ وِمبر کہتی ہیں کہ معلومات کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار کا رجحان ’طویل مدتی حافظے کی نشوونما میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے‘۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی،ا سپین، بلجیم، نیدرلینڈ اور لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار بالغ افراد پر کی جانے والی تحقیق میں سامنے ا?یاہے کہ ان میں سے ایک تہائی افراد کو معلومات دوبارہ یاد کرنے کے لیے کمپیوٹر کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
برطانیہ میں کیے جانے والے سروے کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق 45 فیصد افراد کودس سال کی عمر میں اپنے گھر کے پرانے ٹیلی فون نمبرز یاد تھے۔ 29 فیصد کو اپنے بچوں اور43 فیصدکو اپنے دفاتر کے ٹیلی فون نمبر یاد تھے۔
برطانیہ میں 51 فیصد افراد کواور اٹلی میں تقریباً 80 فیصد افراد کو اپنے ساتھی کے ٹیلی فون نمبر یاد تھے۔سائبر سیکورٹی کی کمپنی کیسپرسکی لیب کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لوگ کمپیوٹر والے آلات اپنے ’اضافی‘ دماغ کے طور پر استعمال کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
بچوں پر کمپیوٹر کے اثرات
حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹرز بچوں کی ذہنی صحت اور علمی قابلیت میں اضافے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بچوں کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم او ای سی ڈی کی جانب سے ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے ممالک جہاں کلاس رومز میں کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں وہاں تین چوتھائی بچوں میں ذہانت یا امتحانی کارکردگی کے اعتبار سے کوئی مثبت فرق دکھائی نہیں دیا۔اس کے برعکس ایشیا کے ایسے اسکول جہاں عام افراد بڑی تعداد میں اسمارٹ فونز اور کمپوٹرز کا استعمال کرتے ہیں، وہاں کلاس رومز میں بچوں میں ان کا استعمال انتہائی کم دکھائی دیا۔ جنوبی کوریا میں بچے اوسطا نو منٹ روزلنہ جبکہ ہانگ کانگ میں گیارہ منٹ روزانہ کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔ ا?سٹریلیا میں یہ دورانیہ 58 منٹ، یونان میں 42 منٹ اور سوئیڈن میں 39 منٹ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے اسکول جہاں کلاس رومز میں کمپیوٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں طلبہ کی کارکردگی پر اثرات ملے جلے ہیں۔ ایسے طلبہ جو اسکولوں میں تواتر کے ساتھ کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہیں وہ کئی معاملات میں بڑی غلطیاں کرتے نظر ا?تے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…