منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

۔'داعش' کے پیچھے اصل میں کس کا ہاتھ ہے، حیرت انگیز انکشاف!!۔

datetime 28  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد: لاہورمیں گزشتہ ماہ گرفتارہونیوالے داعش کے مبینہ کمانڈریوسف السلفی نے امریکا میںرابطوں اور فنڈز ملنے کااعتراف کیا ہے۔

 یوسف السلفی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ پاکستان میں تنظیم کوچلانے اور شام میں لڑائی کیلیے نوجوانوں کی بھرتی کیلیے اسے رقوم ملتی رہی ہیں۔ان ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی نژاد شامی یوسف السلفی ترکی کے راستے پانچ ماہ پہلے پاکستان میںداخل ہوا تھا۔وہ ترکی میں پکڑا بھی گیا لیکن وہاں سے فرار ہوکر پاکستان پہنچ گیا ۔

ان ذرائع نے بتایا کہ سلفی کوامریکا سے فنڈزملنے کامعاملہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے حالیہ دورہ اسلام آبادکے دوران بھی اٹھایاگیا۔امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل لائیڈآسٹن کے دورہ اسلام آبادکے دوران بھی یہ معاملہ اٹھایاگیا۔سلفی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیاکہ وہ ایک پاکستانی امام مسجد کے ساتھ مل کر شام میں لڑائی کے لئے نوجوانوں کوبھرتی کرتا تھا اورہر بھرتی پراسے600 ڈالر ملتے تھے۔ان ذرائع نے بتایا کہ امریکا شدت پسند تنظیم داعش اوراسلامک اسٹیٹ کی سرگرمیوںکی سخت مذمت توکرتا ہے لیکن ان تنظیموںکواپنے ملک سے فنڈنگ نہیں رکوا سکا۔ان ذرائع نے کہا امریکا کویہ تاثر زائل کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مفادات کیلیے مذکورہ گروپ کو رقوم دے رہا ہے اوریہی وجہ ہے کہ وہ تنظیم کیخلاف عراق میں توکارروائی کرتا ہے لیکن شام میں نہیں ۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ داعش دوسرے ممالک کے علاوہ لیبیا، افغانستان، پاکستان اوربھارت کے شہریوں کو شام میں لڑائی کیلیے بھرتیاں کررہی ہے۔ پاکستان میں مختلف شہروں میں دیواروں پر داعش کے پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں ۔متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کئی بارکہا ہے کہ پاکستان میںاسلامک اسٹیٹ سرگرم ہے ۔اس تنظیم کی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے نہ روکاگیا توملک کوایک نئی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔یوسف السلفی اورلاہور میں اس کے ساتھی امام مسجد کی گرفتاری نے تصدیق کردی ہے کہ داعش پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کررہی ہے ۔ داعش کومضبوط ہونے سے روکنے کیلئے حکومت اورسیکیورٹی ایجنسیوںکو ٹھوس اقدامات کرنا ہوںگے ۔

یاد رہے1990 میں نوازشریف کے پہلے دورمیں کالعدم تنظیم کے کچھ ارکان گرفتارکئے گئے تھے جنھوں نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا تھاکہ ان کے امریکہ میں رابطے ہیں اور انھیں اپنے امور چلانے کیلیے وہاں سے فنڈز ملتے ہیں ۔ان ملزمان کے قبضہ سے سٹی بینک نیویارک کے کچھ کریڈٹ کارڈ بھی ملے ۔انھوں نے اعتراف کیا کہ مذکورہ بینک میں ان کے کھاتے ہیں اور امریکا سے فنڈز ملتے ہیں۔ اس وقت بھی یہ معاملہ امریکی حکام سے اٹھایاگیا تھا لیکن امریکا نے اپنی سرزمین سے ایسی فنڈنگ روکنے کیلیے کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…